کراچی پولیس کے جرمن کھوجی کتے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جرائم کی روک تھام اور تحقیقات کے لیئے اب کتوں سے مدد لی جائے گی۔ پولیس کی مدد کے لیئے دس تربیت یافتہ کتے جرمنی سے برآمد کیئے جائیں گے۔ ملک کے میٹروپولیٹن شہر میں نشتر پارک بم دھماکے کے بعد ناقص حفاظتی انتظامات اور جدید آلات کی کمی کے معاملات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ واقعے کے تحقیقاتی ٹربیونل کے سامنے پولیس نے جہاں شہر میں کہیں بھی کلوز سرکٹ کیمرا نہ ہونے کا اعتراف کیا وہاں بم ڈسپوزل اسکواڈ نے بھی عدالت کو بتایا کہ ان کے پاس بم کا پتہ لگانے کے لیئے کوئی جدید آلا نہیں اور وہ تار والے بم کے علاوہ کوئی بم ناکارہ بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ کراچی پولیس کے سربراہ نیاز احمد صدیقی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو
پولیس سربراہ نے کتوں کی افادیت کے بارے میں بتایا کہ کھوجی کتوں کا استعمال پوری دنیا میں ہورہا ہے۔ یہ دھماکے خیزمادے کی پہچان سمیت نیاز صدیقی کے مطابق اگر کسی فیلڈ میں دو کتے چھوڑ دیں تو اس کام کے لیئے بیس سپاہی کارآمد نہیں ہوسکتے جتنے کتے ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کتے آپریشن اور تفتیشی پولیس دونوں کو فراہم کیے جائینگے جبکہ دو کتے رینجرز کےبھی حوالے کیے جائینگے۔ نیاز صدیقی نے بتایا کہ کلوز سرکٹ کیمرا بھی نصب کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کیمرے ہائی سکیورٹی زون سمیت ہوائی اڈے سے شہر تک شاہرائے فیصل پر اور شہر کے حساس مقامت پر نصب کیے جائینگے۔ | اسی بارے میں برقعہ پوش اسمبلی میں20 April, 2005 | پاکستان کوئٹہ میں سخت حفاظتی انتظامات19 July, 2005 | پاکستان بش کی آمد پر سکیورٹی سخت03 March, 2006 | پاکستان مساجد میں نمازیوں کی تلاشی 08 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||