BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 June, 2006, 09:32 GMT 14:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی پولیس کے جرمن کھوجی کتے

سکیورٹی کے لیئے کیمرے بھی لگائے جائیں گے
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جرائم کی روک تھام اور تحقیقات کے لیئے اب کتوں سے مدد لی جائے گی۔ پولیس کی مدد کے لیئے دس تربیت یافتہ کتے جرمنی سے برآمد کیئے جائیں گے۔

ملک کے میٹروپولیٹن شہر میں نشتر پارک بم دھماکے کے بعد ناقص حفاظتی انتظامات اور جدید آلات کی کمی کے معاملات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔

واقعے کے تحقیقاتی ٹربیونل کے سامنے پولیس نے جہاں شہر میں کہیں بھی کلوز سرکٹ کیمرا نہ ہونے کا اعتراف کیا وہاں بم ڈسپوزل اسکواڈ نے بھی عدالت کو بتایا کہ ان کے پاس بم کا پتہ لگانے کے لیئے کوئی جدید آلا نہیں اور وہ تار والے بم کے علاوہ کوئی بم ناکارہ بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

کراچی پولیس کے سربراہ نیاز احمد صدیقی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو
بتایا کہ اکتوبر تک یہ کھوجی کتے پولیس کے حوالے ہوجائینگے، ان کے ساتھ ہینڈلر بھی ہوگا۔

کھوجی کتے کی قیمت پانچ لاکھ روپے
 فی کھوجی کتے کی قیمت پانچ لاکھ روپے ہے۔ اس میں وٹنری ڈاکٹر سمیت تمام اخراجات شامل ہونگے۔ کتے کی حساسیت پچانوے فیصد سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر اس میں کمی ہوگی تو اس کے لیئے پھر سے رفریشر کورس کروانا پڑےگا۔
پولیس سربراہ نیاز احمد صدیقی
پولیس سربراہ نے بتایا کہ فی کھوجی کتے کی قیمت پانچ لاکھ روپے ہے۔ اس میں وٹنری ڈاکٹر سمیت تمام اخراجات شامل ہونگے۔ انہوں نے بتایا کہ کتے کی حساسیت پچانوے فیصد سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر اس میں کمی ہوگی تو اس کے لئے پھر سے رفریشر کورس کروانا پڑیگا۔ یہ تربیت مقامی طور پر ہی ہوگی۔

پولیس سربراہ نے کتوں کی افادیت کے بارے میں بتایا کہ کھوجی کتوں کا استعمال پوری دنیا میں ہورہا ہے۔ یہ دھماکے خیزمادے کی پہچان سمیت
منشیات کی فیلڈ میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

نیاز صدیقی کے مطابق اگر کسی فیلڈ میں دو کتے چھوڑ دیں تو اس کام کے لیئے بیس سپاہی کارآمد نہیں ہوسکتے جتنے کتے ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ کتے آپریشن اور تفتیشی پولیس دونوں کو فراہم کیے جائینگے جبکہ دو کتے رینجرز کےبھی حوالے کیے جائینگے۔

نیاز صدیقی نے بتایا کہ کلوز سرکٹ کیمرا بھی نصب کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کیمرے ہائی سکیورٹی زون سمیت ہوائی اڈے سے شہر تک شاہرائے فیصل پر اور شہر کے حساس مقامت پر نصب کیے جائینگے۔

اسی بارے میں
برقعہ پوش اسمبلی میں
20 April, 2005 | پاکستان
بش کی آمد پر سکیورٹی سخت
03 March, 2006 | پاکستان
مساجد میں نمازیوں کی تلاشی
08 October, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد