احمد رضا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | نشتر پارک دھماکے میں ساٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے |
حکومت سندھ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ سال نشتر پارک کراچی میں عید میلاد النبی کے جلسے میں ہونے والے بم دھماکے میں ملوث خودکش حملہ آور اور اس کے گروہ کا پتہ چل گیا اور حملہ آور کے دو ساتھیوں کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث گروہ کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے ہے۔ کراچی کے نشترپارک میں گزشتہ سال 11 اپریل کو عید میلادالنبی کے جلسے کے دوران ہونے والے خوفناک بم دھماکے میں 60 سے زائد لوگ ہلاک اور متعدد زخمی اور معذور ہوگئے تھے۔ مرنے والوں میں سنی تحریک کی پوری قیادت اور جماعت اہلسنت کے رہنما بھی شامل تھے۔ سنی تحریک نے صوبائی حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی تفتیش وفاقی تحقیقاتی اداروں سے کروانے کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد تفتیش وفاقی اداروں کو سونپی گئی تھی۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے نشترپارک دھماکے کے بعد کراچی کا دورہ کرکے سنی تحریک کے رہنماؤں اور مذہبی علماء سے ملاقات کی تھی اور یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ خود اس تحقیقات کی نگرانی کرینگے۔  | مذہبی جماعتوں کا الزام  نشتر پارک بم دھماکے کے بعد سنی تحریک سمیت حزب اختلاف کی بعض دیگر مذہبی جماعتوں نے اس کی ذمہ داری حکمران جماعت ایم کیو ایم یعنی متحدہ قومی موومینٹ پر ٹھہرائی تھی۔وسیم اختر جن کا تعلق ایم کیو ایم سے ہیں، کہتے ہیں کہ اس گروہ کا پتہ چل جانے کے بعد مذہبی جماعتوں کا الزام جھوٹا ثابت ہوگیا ہے۔  |
حکومت سندھ نے اب یہ دعویٰ کیا ہے کہ خودکش حملہ آور اور اس کے گروہ کا پتہ چل گیا ہے۔ وزیر اعلی سندھ کے مشیر داخلہ وسیم اختر مبینہ حملہ آور کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ’اس کا نام محمد صدیق ہے اور یہ صوبہ سرحد میں مانسہرہ کا رہنے والا تھا۔ اسکا تعلق لشکر جھنگوی سے تھا۔ جائے وقوعہ سے حملہ آور کا جو سر ملا تھا اسکے اور اسکے گھروالوں کے ڈی این اے ٹیسٹ سے یہ پتہ چلا کہ یہ کون تھا۔‘محکمہ داخلہ حکومت سندھ کے دعوے کے مطابق بم دھماکے میں ملوث حملہ آور اور اسکے گروہ کا تعلق صوبہ سرحد کے علاقے درہ آدم خیل سے ہے جس کا سربراہ امان اللہ عرف مفتی الیاس ہے جبکہ گروہ کے دیگر ارکان میں قاری عابد اقبال محسود، محمد خالد خان عرف ابرار، سلطان عرف محمود، مفتی ذاکر اور رحمت اللہ شامل ہیں۔ ان میں سلطان محمود، مفتی ذاکر اور رحمت اللہ کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ حکام کے مطابق یہ گروہ پاکستان اور افغانستان میں خودکش حملوں کے لئے لوگوں کو منتخب اور تیار کرنے میں ملوث رہا ہے جبکہ اسکا سربراہ امان اللہ عرف مفتی الیاس خودکش حملوں میں استعمال ہونے والی بارودی جیکٹس تیار کرنے کا ماہر ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان نے نشترپارک بم حملے کی تیاری کراچی کے علاقے قصبہ کالونی اورنگی میں واقع ایک مکان میں کی تھی۔ نشتر پارک بم دھماکے کے بعد سنی تحریک سمیت حزب اختلاف کی بعض دیگر مذہبی جماعتوں نے اس کی ذمہ داری حکمران جماعت ایم کیو ایم یعنی متحدہ قومی موومینٹ پر ٹھہرائی تھی۔وسیم اختر جن کا تعلق ایم کیو ایم سے ہیں، کہتے ہیں کہ اس گروہ کا پتہ چل جانے کے بعد مذہبی جماعتوں کا الزام جھوٹا ثابت ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے تو ٹی وی پر بھی کئی بار کہا ہے کہ یہ سارے تو مذہبی جماعتوں کے لوگ ہیں۔ مذہب ان پر زیادہ لاگو ہوتا ہے، انہیں تو زیادہ ذمہ دار ہونا چاہیے، وہ یہ کریں کہ بغیر تصدیق کے کسی پر الزام لگائیں تو یہ بھی ایک گناہ ہے۔ انہوں نے کیا کچھ نہیں کہا متحدہ کے بارے میں یا حکومت کے بارے میں کہ یہ لوگ کچھ نہیں دیکھ رہے اگر حکومت نہیں دیکھ رہی ہوتی تو کیا آج ہم یہاں تک پہنچتے۔‘  | خفیہ ادارے کی بریفنگ  ایک خفیہ ادارے کی جانب سے سنی تحریک کے رہنماؤں کو حملہ میں مبینہ خودکش حملہ آور اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں آج ایک بریفنگ دی گئی تاہم سنی تحریک کے رہنما شاہد غوری نے حکومت کی اس کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔  |
دوسری جانب ایک خفیہ ادارے کی جانب سے سنی تحریک کے رہنماؤں کو حملہ میں مبینہ خودکش حملہ آور اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں آج ایک بریفنگ دی گئی تاہم سنی تحریک کے رہنما شاہد غوری نے حکومت کی اس کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا: ’ہمیں انٹیلیجنس بیورو کے حکام نے بریفنگ دی ہے جس میں انہوں نے ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ دکھائی ہے اور ایک ویڈیو دکھائی جس میں ایک دہشتگرد کہہ رہا ہے کہ انہوں نے کیسے یہ حملہ کیا۔ آپ کو تو معلوم ہے یہ پاکستان ہے، یہاں تو ہاتھی بھی بولتا ہے کہ میں چوہا ہوں۔ اب ظاہر ہے کہ ڈی این اے رپورٹ بھی یہیں پاکستان کی ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے انٹیلیجنس بیورو کے حکام کو کہہ دیا ہے کہ وہ اس کارروائی سے مطمئن نہیں ہیں۔ کراچی پولیس نے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث گروہ کے حراست میں لیے گئے دونوں ارکان کو اب تک کسی عدالت میں پیش نہیں کیا ہے۔ کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی کا کہنا ہے کہ وہ ابھی اس بارے میں کچھ نہیں بتاسکتے اور دو دن بعد صورتحال واضح ہوجائے گی۔ |