الرشید ٹرسٹ پر پابندی طلبہ کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی یونیورسٹی کے طلبہ نے ممنوعہ فلاحی تنظیم الرشید ٹرسٹ پر پابندی کے خلاف جمعرات سے تین روزہ دستخطی مہم شروع کی ہے۔ اگرچہ مذہبی تنظیمیں اس ادارے پر پابندی کی مخالفت کرتی آرہی ہیں لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ روشن خیال یونیورسٹی کے طالب علموں نے اس پابندی کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ اس سلسلے میں کشمیر کے اس علاقے کی یونیورسٹی کے طلبہ نے مظفرآباد یونیورسٹی میں ایک بینر آویزاں کیا ہے۔ اس بینر پر درج ہے’ ہم اقوام متحدہ کی طرف سے الرشید ٹرسٹ پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں اور’ یہ اقدام انسانیت اور انصاف کے خلاف ہے‘۔ اس کے علاوہ یہ بھی لکھا ہے کہ’یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ اقوام متحدہ امریکہ کی کٹھ پتلی ہے‘ اور یہ کہ’ الرشید ٹرسٹ کو فلاحی کاموں کے لیے بحال کیا جائے‘۔ اس بینر پر جمعرات کے روز دو سو سے زائد طلبہ اور طالبات کے علاوہ یونیورسٹی کے کئی ٹیچرز نے بھی دستخط کیے۔ اس بینر میں دستخط کرنے والی کشمیر یونیورسٹی کی طالبہ سحرش ظفر نے کہا کہ’ اقوام متحدہ وجوہات فراہم کرے کہ اس نے الرشید ٹرسٹ پر کیوں پابندی عائد کی ہے اور یہ کہ اقوام متحدہ یہ ثبوت فراہم کرے کہ ٹرسٹ شدت پسند سرگرمیوں میں ملوث ہے‘۔ ایک اور طالبہ لبنٰی کا کہنا تھا’ الرشید ٹرسٹ نے پاکستان اور کشمیر میں خاص طور پر متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی مدد کی اور ہم یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ یہ ادارہ دہشت گردوں کو مدد فراہم کرتا رہا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’حکومت پاکستان کو اقوام متحدہ کی ہدایت پر اس تنظیم پر پابندی نہیں لگانی چاہیے تھی بلکہ حکومت پاکستان کو خود چھان بین کرنی چاہیے تھی اور الزامات درست پائے جانے کی صورت میں کوئی کارروائی ہونی چاہیے تھی ۔
انہوں نے کہا ’ ہم اس بینر پر دستخط کر کے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمیں الرشید ٹرسٹ پر پابندی قبول نہیں ‘۔ ایک اور طالب علم نے کہا کہ’ زلزے کے بعد سے ہم متاثرہ علاقوں میں امدادی اداروں کے کام کا مشاہدہ کرتے آرہے ہیں مذہبی فلاحی تنظیموں کا کام زمین پر نظر آرہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ ان کو پسند کرتے ہیں اور ان پر اعتماد بھی کرتے ہیں‘۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ’ اقوام متحدہ اور غیر ملکی امدادی اداروں کے اپنے اخراجات زیادہ ہوتے ہیں اور لوگوں پر برائے نام رقم خرچ کیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ یہ ادارے ہماری روایات، تہذیب اور سماجی اقدار کے خلاف کام کرتے ہیں اورمتاثرہ علاقوں کے لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں‘۔ دستخط کی یہ مہم تین روز تک جارہی رہے گی۔ اس مہم کے منتطم اورنگزیب سیف اللہ نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ اس مہم کے دوران تمام طلبہ اور طالبات کے علاوہ یونیورسٹی کے ٹیچرز اور ملازمین بھی اس بینر پردستخط کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مہم کے اختتام پر اس بینر کو مظفرآباد میں مقیم اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو یاداشت کی صورت میں پیش کیا جائےگا۔ آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ میں آنے والے زلزلے کے بعد الرشید ٹرسٹ نے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر امدادی کاموں میں حصہ لیا۔ اس سال فروری میں حکومت نے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں الرشید ٹرسٹ کےدفاتر بند کردیے تھے اور حکومت نے کہا تھا کہ اس نے یہ کارروائی اقوام متحدہ کی ہدایت پر کی ہے۔ تنظیم نے حکومت کے اس اقدام کو سندھ ہائی کورٹ میں چلینج کیا اور سندھ ہائی کورٹ نے حال میں ان کے دفاتر کھول کر ان میں موجود دوائیاں اور غذائی اجناس حکام کی موجودگی میں مستحقین میں تقسیم کرنے کی ہدایت کی تھی۔ الرشید ٹرسٹ پر الزام ہے کہ اس کے ذریعے دہشت گردوں کو رقومات مہیا کرائی جاتی تھیں۔تاہم تنظیم ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ حکومت پاکستان نے سنہ دوہزار ایک میں بھی الرشید ٹرسٹ کے بینک کھاتے منجمد کردیے تھے جنہیں بعد میں سندھ ہائی کورٹ نے بحال کرنے کا حکم دیا تھا اب یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ | اسی بارے میں الرشید ٹرسٹ پر پابندی کیوں؟04 April, 2007 | پاکستان الرشید ٹرسٹ کے خلاف کارروائی 18 February, 2007 | پاکستان ’امداد کی تقسیم کی نگرانی کی جائے‘26 April, 2007 | پاکستان الرشید ٹرسٹ پر پابندی، مظاہرہ08 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||