الرشید ٹرسٹ پر پابندی کیوں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے حکومت سے سلامتی کونسل کی قرار داد سمیت وہ تمام تفصیلات طلب کر لی ہیں جن کے تحت الرشید ٹرسٹ پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل بینچ کے سامنے بدھ کے روز الرشید ٹرسٹ پر پابندی کے خلاف دائر پٹیشن کی سماعت ہوئی۔ الرشید ٹرسٹ کے وکیل نے اس پابندی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اسے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ عدالت نے ٹرسٹ پر پابندی کی تفصیلات اور سلامتی کونسل کے احکامات اور قرار داد پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی استدعا کی کہ ٹرسٹ کے بند کیے گئے دفاتر میں جو ادویات اور غذائی چیزیں موجود ہیں انہیں نکالنے کی اجازت دی جائے، تاکہ وہ خراب نہ ہوجائیں ۔
وکیل صفائی نے اس کی مخالفت کی اور وقت طلب کیا تاکہ وفاقی وزارت داخلہ سے رابطہ کیا جاسکے۔ عدالت نے سماعت اٹھارہ اپریل تک ملتوی کردی ہے۔ یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے رواں سال ماہ فروری میں ملک بھر میں الرشید ٹرسٹ کے اٹھائیس دفاتر بند کردیئے تھے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کی ہدایت پر کی گئی ہے۔ الرشید ٹرسٹ پر الزام ہے کہ اس کے ذریعے دہشت گردوں کو رقومات فراہم مہیا کی جاتی تھیں۔ سن دو ہزار ایک میں حملوں کے بعد صدر بش نے ان تنظیموں اور افراد کی فہرست جاری کی تھی جنہیں امریکہ نے غیر قانونی قرار دیا تھا، اس فہرست میں الرشید ٹرسٹ کا نام بھی شامل تھا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ستمبر دو ہزار ایک میں الرشید ٹرسٹ کے اثاثے منجمد کر دیے تھے، جس کے خلاف ٹرسٹ کے ایک اہلکار نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی تھی۔ تاہم سندھ ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ | اسی بارے میں الرشید ٹرسٹ پر پابندی، مظاہرہ08 March, 2007 | پاکستان الرشید ٹرسٹ کے خلاف کارروائی 18 February, 2007 | پاکستان ’پابندی امریکی خوشنودی کےلیئے‘ 04 September, 2006 | پاکستان الرحمت ٹرسٹ کے گودام پر چھاپہ23 January, 2006 | پاکستان امدادی کام کے ساتھ عقائد کی تبلیغ24 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||