ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | مظاہرین میں خواتین اور بزرگ شامل تھے |
حکومت پاکستان کی جانب سے گزشتہ دنوں ایک اسلامی فلاحی تنظیم الرشید ٹرسٹ کے دفاتر کی بندش کے فیصلے سے متاثرہ افراد نے پشاور میں آج احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا۔ مظاہرین میں بیوائیں اور بوڑھے شریک تھے جنہوں نے حکومت سے تنظیم پر سے پابندی اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ حکومت نے گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی ایک قرار داد کا سہارا لیتے ہوئے الرشید ٹرسٹ کے ملک بھر میں دفاتر بند کر دیے تھے۔ اس فیصلے سے تنظیم کا کہنا تھا اس کی فلاحی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ پشاور پریس کلب کے سامنے اس تنظیم سے ملنے والی امداد سے محروم ہونے والی بیواؤں، یتم بچوں اور بےسہارا بوڑھے افراد نے ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا۔ مظاہرین میں اکثریت ستر اسی کی عمر کے بڑے بوڑھے تھے۔ ان میں معزور افراد بھی شامل تھے۔ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ انہوں نے سرکاری فیصلے کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔ الرشید ٹرسٹ پر الزام ہے کہ اس کے ذریعے دہشت گردوں کو رقومات مہیا کرائی جاتی تھیں۔ امریکہ پر سن دو ہزار ایک میں حملوں کے بعد صدر بش نے ایسی تنظیموں اور افراد کی فہرست جاری کی تھی جنہیں امریکہ نے غیرقانونی قرار دیا۔ اس فہرست میں الرشید ٹرسٹ کا نام بھی شامل تھا۔ پاکستان نے تاہم دفاتر کی بندش کا فیصلہ گزشتہ دنوں کیا۔ |