انصار برنی کو قتل کی دھمکیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عرب ممالک میں اونٹوں کی دوڑ میں بچوں کے استعمال کے خلاف سرگرم سماجی کارکن انصار برنی نے لندن سے پاکستان واپسی کا پروگرام فی الحال ملتوی کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ انصار برنی نے انیس سو اسی میں انصار برنی ٹرسٹ کی بنیاد رکھی اور وہ پاکستان میں انسانی حقوق اور غیر قانونی تارکین وطن کے لیے کام کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں ۔ وہ عرب ممالک میں اونٹ دوڑ میں شامل کئی پاکستانی بچوں کو واپس اپنے ملک لانے میں بھی کامیاب ہوئے۔ان کی خدمات کے اعتراف میں امریکا نے انہیں ہیرو کے خطاب سے نوازا ہے۔ انصار برنی کے چھوٹے بھائی صارم برنی کے مطابق انصار اور ان کو ٹیلیفون پر نامعلوم لوگ جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان کو ایک خون سے لکھا ہوا خط بھی ملا تھا جس میں بھی تحریر ہے کہ ہم آپ کو نہیں چھوڑینگے۔ سارم کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق اور عرب ممالک سے بچوں کی واپسی کی لیے کام کرنے کی وجہ سے ان کاواسطہ مختلف گروہوں سے پڑتا ہے۔ مگر وہ ان دھمکیوں کے حوالے سے کسی دہشتگرد یا سیاسی گروہ کی نشاندہی نہیں کرسکتے۔ صارم کے مطابق انتخابات کی وجہ سے کراچی کے حالات تو اور بھی خراب ہیں اس لیے انصار نے پاکستان آنے کا پروگرام ملتوی کردیا ہے۔ان سے پوچھا گیا کہ انصار برنی کوئی سیاسی شخصیت تو نہیں ہیں پھر انتخابات سے ان کا کیا تعلق۔ کیا کسی جماعت نے دھمکی دی ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں وہ کچھ نہیں کہ سکتے۔ صارم کا کہنا تھا کہ انہوں نے اعلیٰ حکام کو بتادیا ہے مگر ان کو معلوم ہے کہ کچھ بھی نہیں ہوگا کیونکہ فاطمید اور عالمگیر ٹرسٹ کے رہنماؤں کو بھی اسی شہر میں قتل کیا گیا مگر ابھی تک ملزمان نہیں گرفتار ہوئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||