BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الرشید ٹرسٹ کے خلاف کارروائی

الرشید کے علاوہ الاختر ٹرسٹ کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے
حکومت پاکستان نے الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، ملک بھر میں ان کے دفاتر بند کردیئے گئے اور بورڈ ہٹا دیئے گئے ہیں۔

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کی ہدایت پر کی گئی ہے جبکہ الرشید ٹرسٹ کے ترجمان نے کہا ہے اس کارروائی کے خلاف وہ قانونی چارہ جوئی کی تیاری کر رہے ہیں۔

ملک بھر میں الرشید ٹرسٹ کے اٹھائیس دفاتر بند کرکے ان کےبورڈ ہٹا دیئے گئے ہیں۔’ کرائسس مینجمنٹ سیل‘ کے سربراہ بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ چاروں صوبائی حکومتوں کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ ایکشن لیں اور ان دونوں تنظیموں کے تمام دفاتر سیل اور آپریشن ختم کیے جائیں ان کے فنڈز، پبلیکیشنز اور ویب سائٹس وغیرہ بند کی جائیں۔

الرشید ٹرسٹ پر الزام ہے کہ اس کے ذریعے دہشت گردوں کو رقومات مہیا کی جاتی تھیں۔ امریکہ پر سن دو ہزار ایک میں حملوں کے بعد صدر بش نے ایسی تنظیموں اور افراد کی فہرست جاری کی تھی جنہیں امریکہ نے غیر قانونی قرار دیا گیا تھا اور اس فہرست میں الرشید کا نام بھی شامل تھا۔

حکومت پاکستان نے سنہ دوہزار ایک میں بھی الرشید ٹرسٹ کے بینک کھاتے منجمد کیے تھے جنہیں بعدمیں سندھ ہائی کورٹ نے بحال کرنے کا حکم دیا تھا اب یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔


الرشید ٹرسٹ کے چیئرمین کے ترجمان مولانا الطاف حسین نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ ہی ان پر امریکی الزام سے بریت کا ایک ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ الرشید ٹرسٹ ایک فلاحی تنظیم ہے جس کا کسی دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال ان کے طبی اور دیگر فلاحی آپریشن جاری ہیں لیکن انہیں کچھ علم نہیں کہ وہ کس وقت بند کر دئیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پابندی کا یہ اعلان دراصل ان ہزاروں زلزلہ متاثرہ اور دیگر مصیبت زدہ اور غریب خاندانوں پر بجلی بن کر گرے گا جن کی امداد الرشید ٹرسٹ کر رہا ہے۔

الرشید ٹرسٹ کے ترجمان نے اس حکومتی اقدام کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا ہے اور کہا ہے ان کے قانونی مشیران کا پینل اس کارروائی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

’کرائسس مینجمنٹ سیل‘ کے سربراہ بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ
نے کہا کہ حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ کے متعلقہ فورم پر الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ کے مؤقف کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ یہ فلاحی تنظیمیں ہیں ان کا نام ممنوعہ تنظیموں کی فہرست سے خارج کیا جائے جس پر اقوام متحدہ کے سیکیورٹی کونسل کی اس ذیلی کمیٹی نے پاکستان پر واضح کیا کہ پہلے وہ پابندی کے فیصلے پر عملدرآمد کرے اس کے بعد ان اداروں کو ممنوعہ تنظیموں کی فہرست سے خارج کرنے کے بارے میں غور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے وفاقی حکومت نے ہدایت کی ہے کہ الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ کے خلاف بین الاقوامی قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ الرشید ٹرسٹ داراصل ادارہ برائے امداد علماء نامی تنظیم کا نیا روپ ہے۔ ادارہ برائے امداد علماء پر الزام ہے کہ وہ افغانستان کی طالبان حکومت کے لیے فنڈز اکٹھے کرتا رہا ہے۔

کراچی میں الرشید ٹرسٹ کے مرکزی دفتر سمیت چھ دفاتر سیل کئے گئے ہیں۔ شہری پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انہیں اتوار کی صبح گیارہ بجے وفاقی حکومت سے احکامات موصول ہوئے تھے جس کے بعد الرشید اور الاختر ٹرسٹ کے دفاتر سیل کئے گئے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اس ٹرسٹ پر کیا اعتراضات تھے؟ تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہوں نے صرف وفاقی حکومت کےحکم کی تعمیل کی ہے۔

الرشید ٹرسٹ کے ترجمان الطاف حسین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملک بھر میں ان کے اٹھائیس کے قریب دفاتر سیل کئے جاچکے ہیں، یہ دفاتر کراچی ، میرپورخاص، سکھر، کوئٹہ، رحیم یار خان، ملتان اسلام آباد، ایبٹ آباد ، راولپنڈی، مانسہرہ، پشاور ، مینگورہ ، منڈی بہاؤالدین ، سرگودھا، فیصل آباد، سیالکوٹ اور گجرانوالا میں تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹرسٹ مقامی قانون کے تحت رجسٹرڈ ہے اور گزشتہ بارہ سالوں سے کام کررہا ہے ، اس کے ڈائریکٹروں میں تمام شعبے زندگی کے لوگ شامل ہیں جن میں پروفیسر ، انجنیئرز ، ڈ اکٹر شامل ہیں۔

مظفرآباد سے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا ہے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی فلاحی ادارے الرشید ٹرسٹ کا واحد دفتر سیل کردیا گیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد میں اسسٹنٹ کمشنر مسعودالرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کاروائی حکومت پاکستان کی ہدایت پر کی گئی ہے۔

کشمیر کے اس علاقے کے انسپکڑ جنرل پولیس شاہد حسن نے کہا کہ شہر مظفرآباد کے علاوہ تنظیم کا کشمیر کے اس علاقے میں کوئی اور دفتر نہیں تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد