BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 September, 2006, 11:43 GMT 16:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پابندی امریکی خوشنودی کےلیئے‘

پولیس نے تاجروں پر فرقہ وارانہ کیسٹس فروخت کرنے کا الزام لگایا تھا
صوبہ سرحد میں حکمراں اتحاد میں شامل جماعت اسلامی کے ایک اہم رہنما اور رکن قومی اسمبلی صابر حسین اعوان نے کہا ہے کہ اسلامی ذرائع ابلاغ پر پابندی لگا کر حکومت امریکہ اور مغرب کو خوش کرنا چاہتی ہے۔

صابر حسین اعوان نے ، جو جماعت اسلامی کے ضلع پشاور کے امیر بھی ہیں، پشاور میں ایک اخباری کانفرنس کے دوران کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک بھر میں فحاشی و عریانی بڑھ رہی ہے اور حکومت اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزیراعلیٰ اکرم خان درانی سے مبینہ فحاشی و عریانی کے خاتمے میں ناکامی پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس مطالبے کی اصل وجہ گزشتہ دنوں پشاور میں تھانہ کابلی کی جانب سے ایک چھاپے میں مذہبی کیسٹس فروخت کرنے والے چھ دکانداروں کی گرفتاری ہے۔ ’ایوب اسلامی کیسٹس مرکز‘ کے ان تاجروں پر پولیس نے فرقہ وارانہ کیسٹس فروخت کرنے کا الزام لگایا تھا۔

صابر اعوان نے ماضی میں بھی پشاور میں فحاشی اور عریانی کے خاتمہ کے نام پر سائن بورڈز توڑنےکی ایک مہم کی قیادت کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کیسٹس کا کاروبار صرف یہ دکانداروں نہیں کرتے تھے بلکہ یہ پورے شہر میں باآسانی دستیاب ہیں۔ تاہم انہیں غصہ اس بات پر بھی تھا کہ آج بھی شہر کے سینما گھروں میں بلیو فلمیں، کارخانہ مارکیٹ میں فحش سی ڈیز اور نشتر آباد میں فلموں کا غیرشریعی کاروبار تو جاری ہے تو پھر محض ان چھ افراد کو گرفتار کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا ہے۔

جماعت اسلامی کے رہنما کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سلسلے میں وزیر اعلی اکرم خان درانی کی قاضی حسین احمد اور ان کو یقین دہانی کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ اس گرفتاری کا حکم صوبائی حکومت یا پشاور میں امریکی کونسل خانے نے دیا تھا۔

اس موقعہ پر انہوں نےگرفتار تاجروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بصورت دیگر وہ اس مسئلے پر حکومت اور مقامی انتظامیہ کے خلاف ایک منظم احتجاجی تحریک چلائیں گے۔

گرفتار کیئے جانے والوں میں احسان اللہ، منور حسین، امتیاز احمد، حفیظ اللہ اور جان محمد عباسی اور ایک اور دکاندار شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد