انسدادِ فحاشی: ٹی وی سیٹ نذرِ آتش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شہر چارسدہ میں جمعے کو اللہ اکبر کے نعروں میں مقامی علما نے فحاشی کے خاتمے کی مہم کے سلسلے میں درجنوں ٹیلیوژن سیٹ نذر آتش کر دیے۔ فحاشی اور عریانیت کے خلاف مہم کے سلسلے میں چارسدہ میونسپل پارک میں نماز جمعہ کے بعد ہزاروں تعداد میں موجود افراد نے درجنوں ٹیلیوژن سیٹ نذر آتشں کیے۔ عینی شاہدین کے مطابق جلسہ گاہ میں پچیس ٹی وی سیٹ جلوس کی شکل میں لائے گئے۔ ان میں بلیک اینڈ وائٹ اور رنگین دونوں قسم کے ٹی وی تھے۔ اس دوران جلسہ گاہ اللہ اکبر اور اسلام زندہ باد کے نعروں سے گونجتا رہی۔ سکیورٹی انتظامات بھی سخت تھے۔ اس موقعہ پر جعمیت علما اسلام کے رکن قومی اسمبلی مولانا گوہر شاہ، دارالعلوم اسلامیہ چارسدہ کے مفتی عبداللہ شاہ، مولانا عبدالواحد اور دیگر علما بھی موجود تھے۔ مقامی پولیس افسر محمد اقبال نے بتایا کہ یہ اقدام مقامی لوگوں نے رضا کارانہ طور پر اٹھایا اور ان پر کسی کا دباؤ نہیں تھا۔ ’لوگوں نے مقامی علما کی اپیل پر یہ ٹی وی نذر آتش کیے‘۔ اطلاعات کے مطابق مفتی عبداللہ شاہ نے گزشتہ دنوں ایک مقامی ریڈیو پر عوام کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ٹی وی کو غیراسلامی قرار دیا تھا۔ اس موقعہ پر تقاریر میں علما نے مدارس کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ یہ کارروائی امریکہ اور برطانیہ کی ایما پر کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مدارس دہشت گردی کے اڈے نہیں بلکہ اسلام کے قلعے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||