صنعتی نمائش پر حکمِ امتناعی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور میں آئے دن صنعتی نمائشوں کے انعقاد پر مقامی تاجر احتجاج کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سرحد چیمبر نے عدالت سےقیوم سٹیڈیم میں منعقد ہونے والی ایک صنعتی نمائش کے انعقاد کے خلاف حکم امتناعی بھی حاصل کر لیا ہے۔ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں بھی صنعتی نمائش کا رجحان کچھ زیادہ ہی ہے۔ ہر سال کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی نام سے یہ نمائشیں منعقد ہوتی رہتی ہیں جن میں لوگ بظاہر ارزاں نرخ یا تفریح کی وجہ سے کھنچے چلے آتے ہیں۔ ابھی ایک نمائش ختم نہیں ہوتی کہ دوسری شروع ہوجاتی ہے۔ ان نمائشوں کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ان سے نہ صرف مقامی تاجر برادری کو سخت نقصان اٹھانا پڑتا ہے بلکہ فروخت کی جانے والی اشیاء بھی غیرمعیاری ہوتی ہیں۔ مقامی تاجـروں کے سربراہ اور سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر حاجی حلیم جان کا کہنا تھا کہ ان نمائشںوں کے نام پر عوام کو لُوٹا جاتا ہے کیونکہ ان میں غیرمعیاری اشیا ہی فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتی نمائشوں سے مقامی تاجروں کے کاروبار پر اسی فیصد برا اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے یہ اعتراض بھی کیا کہ نام ان کا صنعتی نمائش ہوتا ہے لیکن ایک بھی صنعتی سٹال نظر نہیں آتا۔ انہوں نے ان نمائشوں پر فحاشی کے اڈوں کا کام کرنے کا بھی الزام لگایا۔
تاجروں کے بقول حکومت نے بھی سال میں صرف ایک نمائش کی اجازت دینے کا حکم دیا تھا جس کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ نمائش منعقد کرنے والوں کا موقف ہے کہ ان کے ذریعے عوام کو اشیاء بازار کے نرخ سے بہت کم پر ملتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق حکومت کو ان نمائشوں کے سلسلے میں ایسا قانون یا نظام تیار کرنا ہوگا جس سے عوام، مقامی تاجر اور نمائش کے منتظمین سب کے مفادات کا تحفظ ہوسکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||