BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 August, 2007, 17:56 GMT 22:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مدارس دہشت گردی کے مراکز نہیں‘

مہمند ایجنسی
مہمند ایجنسی میں مزار پر قبضہ کرنے والے ماسک پہنے ہوئے شدت پسند
لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے فوجی آپریشن کے بعد جہاں ایک طرف اسلام آباد کے جدت پسند طبقات مذ ہبی مدرسوں کی افادیت اور معاشرے میں ان کے کردار کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں تو دوسری طرف صوبہ سرحد کے اُن علاقوں میں جہاں مذہبی رجحانات رکھنے والے لوگوں کی اکثریت ہے وہاں مدرسوں کے بارے میں عوامی تائید میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔

صوبہ سرحد کے شمالی ضلع دیر زیریں کے گاؤں تالاش میں واقع مدرسہ ضیاء العلوم کے قاری احسان اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوۓ کہا کہ لال مسجد فوجی آپریشن کے بعد ان کے مدرسے میں پڑھنے والے طلب علموں کی تعداد اسی سے بڑھ کر ایک سو بیس ہوگئی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ والدین کا مدرسوں میں اعتماد بڑھا ہے۔

جب ان سے پوچھا کہ اس اضافے کی وجہ آج کل سکولوں میں گرمیوں کی چھٹیاں تو نہیں ہیں تو انھوں نے بتایا کہ ان کے مدرسہ میں سہ پہر کے بعد کلاسیں لگتی ہیں۔

ضلع دیر ہی میں واقع مدرسہ احیاء العلوم کے سربراہ مولانا ہدایت اللہ کے مطابق لال مسجد آپریشن کی وجہ سے ان کے مدرسے کے طلباء کی تعداد پر کوئی فرق نہیں پڑا ۔ لیکن انہوں نے کہا کہ لال مسجد پر فوجی آپریشن کے بعد والدین اپنے بچوں اور بچیوں کو مدارس بھجوانے سے خائف ہیں کیونکہ اسلام آباد کے واقع نے والدین کے ذہنوں میں کئی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔

لیکن اسلام آباد کی جناح سپر مارکیٹ میں خریداری کرتی ہوئی کالج کی طالبہ مہوش کے خیال میں لال مسجد کے واقع کے بعد اب حکومت کو مدارس پر زیادہ توجہ دینی چاہیے اور ان پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے بارے میں حکومت کو معلومات اکھٹی کرنی چاہیے کہ اگلے سال کتنے طلبا و طالبات نے مدارس میں داخلہ لیا اور مدارس میں پڑھائے جانے والے مضامین کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے چوہدری بشارت کا کہنا تھا کہ مدارس میں پڑھنے والوں کو دہشت گرد بنایا جاتا ہے اور مدارس کی وجہ سے پہلے افغانستان کو تباہ کیا گیا تو اب یہ لوگ پاکستان کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ ان کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے ان ہی کے دوست کا کہنا تھا کہ تمام مدارس کو دہشت گردی کے اڈے کہنا درست نہیں کیونکہ مدارس دینی تعلیم کے احیاء و ترویج کے حوالے سے گراں قدر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

لال مسجد میں سکیورٹی
لال مسجد میں طلبہ اور فوج کے درمیان خونریز لڑائی ہوئی تھی

اسی طرح ایک خاتونِ خانہ کا کہنا تھاکہ مدارس میں کبھی بھی عسکریت پسندی کی ترویج نہیں کی جاتی ہوگی لیکن حال ہی میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے تناظر میں جو دیکھنے کو ملا وہ معاشرے میں پائے جانے والی محرومیوں کا ردعمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ البتہ یہ ضرور ہے کہ ان کا رویہ ذرا سخت ہے اور رجعت پسندی پر مبنی ہے۔

مدارس کے بارے میں عوامی خدشات کو رد کرتے ہوۓ دینی حلقوں خصوصاٌ وفاق المدارس العربیہ کا کہنا ہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو طاقت کے استعمال سے خالی کرانے کی حکومتی حکمتِ عملی سے مدارس کے بارے میں منفی تاثر پھیلنے کی بجائے پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر بدنامی ہوئی ہے ۔

وفاق المدارس العربیہ کے سیکریٹری جنرل حنیف جالندھری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صرف ایک مدرسے کی وجہ سے عوام اور حکومت کو بیس ہزار سے زائد مدرسوں کے بارے میں شک میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔

لیکن جب ان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی گئی کہ اگر مدرسے میں پڑھنے والی طالبات ہاتھوں میں ڈنڈے لیے بازاروں میں نکلیں گی اور ایک سرکاری مسجد کو خالی کرنے کے لیے حکومت کو فوجی آپریشن کا سہارا لینا پڑے گا تو اس سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مدرسوں کے بارے میں کس طرح کا تاثر ابھرے گا تو وفاق المدارس العربیہ کے سیکریٹری جنرل مولانا حنیف جالندھری نے کہا کہ مدارس کے بارے میں تاثر متاثر نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ لال مسجد آپریشن کے دوران ان کی تنظیم نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والوں کے مخالفت کی اور مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے کی سربراہی میں چلنے والے تمام مدارس میں پر امن ماحول میں تعلیم دی جاتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ بچوں اور بچیوں کے والدین مطمئن ہیں اور کبھی کسی نے مدارس کے کردار کے بارے میں شکوک کا اظہار نہیں کیا۔

طالبانمزار حاجی ترنگزئی
جنگ آزادی کے ہیرو کے مزار پرمسلح طالبان قابض
خالد عمرلال مسجد: بازگشت
مہمند ایجنسی مزار کے قابض کیا چاہتے ہیں؟
حاجی رسول خان محسود کراچی میں رہنے والے قبائلیکراچی میں قبائلی
قبائلی علاقوں سے باہر قبائلی فکر مند
لال مسجد آپریشن کے بعد کئی حملے ہوئے ہیںطالبان کی دھمکی
’لال مسجد پر مقامی طالبان رہنما کا بیان‘
لال مسجد: لاپتہ طلباء
لاپتہ ہونے والے طلباء کے والدین پریشان
لال مسجد کے اندر کا منظرلال مسجد کئی سوال
شدت پسند کہاں تھے اور کہاں چلے گئے
فوجآپریشن لال مسجد
ایک طویل کشمکش کا ابتدائی مرحلہ؟
اسی بارے میں
دو فوجی 35 حملہ آور ہلاک
23 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد