باجوڑ طالبان اور دکانداروں کامعاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کےقبائلی علاقے باجوڑ میں مقامی طالبان اور دکانداروں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے جس میں جمعہ کے روز بازار بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ پیر کی صبح باجوڑ میں عنایت کلی کے بازار یونین کے صدر حاجی شاہ محمد اور مقامی طالبان کے کمانڈر مولانا فقیر محمد کے درمیان ہوا ہے۔ حاجی شاہ محمد نے بی بی سی کوبتایا کہ معاہدہ مقامی طالبان کے کہنے پر کیا گیا ہے کیونکہ انکا مؤقف ہے کہ جمعہ اسلام کی رو سےایک مقدس دن ہوتا ہےاور بقول انکے اس روز کاروبار کرنا ایک غیرشرعی عمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کلینک، قصابوں، سبزی فروشوں، ہوٹلوں اور مرغ فروشوں کو اس معاہدے سے مستثنی قرار دیا گیا ہے۔
حاجی شاہ محمد کا مزید کہنا تھا کہ طالبان نے کچھ عرصے قبل جمعہ کو پورے باجوڑ میں بازار بند رکھنے کا اعلان کیا تھا جس پر تقریباً پچیس دوکانداروں نے عملدرآمد نہیں کیا تھا اور مقامی طالبان نے سزا کے طور پر انہیں گزشتہ جمعہ کو اغواء کرلیا تھا مگر مذاکرات کے بعد انہیں واپس چھوڑ دیا گیا تھا۔ انکے مطابق باجوڑ میں سات کے قریب چھوٹے بازارموجود ہیں جن میں سے بعض مقامی طالبان کے کہنے پر جمعہ کو بند ہوتے ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ مقامی طالبان کے ساتھ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ باجوڑ کے چینگئی علاقے میں قائم دینی مدرسے کی تعمیر کے سلسلے میں طالبان بائیس سو دکانوں پر مشتمل عنایت کلی کے بازار میں نقاب نہ اوڑھنے کی شرط پر چندہ اکھٹا کرسکتے ہیں۔ مدرسے پر پاکستانی فوج نے اس الزام کے تحت بمباری کی تھی کہ یہاں پر مبینہ شدت پسندوں کو تربیت دی جا رہی تھی جس میں پچاسی سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے تاہم لوگوں نے حکومتی الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ جان بحق ہونے والے تمام کمسن طالبعلم تھے۔ حاجی شاہ محمد کے مطابق مولانا فقیر محمد کا یہ بھی کہنا تھا کہ علاقے میں طالبان کے علاوہ کسی اور کو اسلحہ لے کر چلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فقیر محمد کے ساتھ درجنوں مسلح ساتھی تھے۔انکے مطابق اس موقع پر حکومت اور طالبان کے درمیان معاہدہ کرانے والے جرگے کے سربراہ حاجی عبدالعزیز بھی موجود تھے۔ دوسری طرف پیر ہی کو مقامی طالبان کی جانب سے عنایت کلی میں دیواروں پر ایسے پمفلٹ چسپاں کیے گئے تھے جس میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا گیا تھا جنہوں نے چینگئی میں زیر تعمیر مدرسے کے لیے چندہ دیا تھا۔
پمفلٹ میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ مدرسے کے لیے کتابوں اور طالبان کے کھانے پینے کے لیے مزید پیسوں کی ضرورت ہے لہذا اس سلسلے میں مالی مدد کی جائے۔ اس بارے میں مقامی پولٹیکل انتظامیہ کا ردِعمل حاصل کرنے کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ واضح رہے کہ مولانا فقیر محمد نے سالازئی قبیلے کی توسط سے حکومت کے ساتھ ایک امن معاہدہ پر دستخط کیے تھے۔ مقامی طالبان نے چند مہینے قبل بھی حجاموں پر پابندی لگائی تھی کہ وہ داڑھیاں نہ بنائیں۔ | اسی بارے میں ’ان پر دنیا کا ہم پر اللہ کادباؤ ہے‘31 October, 2006 | پاکستان مدرسے پر بمباری: 80 افراد ہلاک31 October, 2006 | پاکستان باجوڑ حملے کے بعد کس نے کیا کیا؟31 October, 2006 | پاکستان باجوڑ، میرے گھر پر چھاپہ: ملافقیر12 July, 2006 | پاکستان ڈمہ ڈولہ کی آسیہ: ’میری آنکھ میں چھرے لگے‘01 June, 2006 | پاکستان ’حملہ ناقص انٹیلی جنس کا نتیجہ تھا‘15 January, 2006 | پاکستان حملے کا سبب کھانے کی دعوت16 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||