لال مسجد کےارد گرد خاردار تار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد پر مشتعل طلبہ اور نمازیوں کی جانب سے کئی گھنٹوں کے قبضے کے ایک روز بعد سکیورٹی اہلکاروں نے مسجد کے اردگرد خاردار تاریں لگا کر اسے بند کر دیا ہے۔ مسجد کے گرد کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد پولیس کے علاوہ ایلیٹ فورس اور پنجاب پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔ تاہم مقامی انتظامیہ نے چوبیس روز بعد پہلی مرتبہ آبپارہ سے میلوڈی جانے والی سڑک کو عام ٹریفک کے لیئے کھول دیا ہے۔ سڑک کے کھلنے پر عوام نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ اس اہم اور مصروف سڑک کی بندش سے عام لوگوں کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی متبادل راستہ استعمال کرنے پر مجبور تھی۔ مشتعل افراد کی جانب سے مسجد کو جمعہ کو کئے جانے والے سرخ رنگ کو بھی ایک مرتبہ پھر ہلکا پیلا رنگ دے دیا گیا ہے۔ پولیس نے جی سکس کے علاقے میں اضافی ناکے بھی ختم کر دیئے ہیں۔ حکومت نے جمعہ کے ہنگامے کے بعد مسجد کو تاحکم ثانی بند کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا۔ مبصرین کے خیال میں جمعہ کے واقعات کے بعد اب شاید حکومت مسجد کافی طویل عرصے تک بند رکھے گی۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ علماء اور علاقے کے لوگوں سے مذاکرات کرے گی جس کے بعد ہی مسجد کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ لال مسجد میں ہنگاموں کے دوران قریب ہی آبپارہ مارکیٹ میں ایک خودکش حملے میں چودہ افراد ہلاک جبکہ ساٹھ زخمی ہوئے تھے۔ وفاقی حکومت نے کل رات آبپارہ اور ایف ایٹ خودکش حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے ایک لاکھ جبکہ زخمیوں کے لیے پچاس ہزار روپے کے معاوضے کا اعلان کیا تھا۔ ادھر مسجد میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران لاپتہ ہونے والے طلبہ کے والدین نے وزیر اعظم شوکت عزیز سے ملاقات کی جس میں وزیر اعظم نے انہیں اڈیالہ جیل میں اپنے پیاروں کی تلاش میں ہرممکن مدد کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ | اسی بارے میں ’صحافیوں کو گولی مار دینے کا حکم‘10 July, 2007 | پاکستان صوبہ سرحد میں مظاہرے اور دعائیں11 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: لاپتہ طلباء، والدین کی مشکلات14 July, 2007 | پاکستان سات مرلے جائز، اٹھارہ کنال ناجائز24 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: تفصیلی رپورٹ طلب26 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||