’لال مسجد مشن جاری رکھیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہمند ایجنسی میں حاجی صاحب ترنگزئی کے مزار اور اس سے ملحقہ مسجد پر بظاہر قابض مسلح افراد کے سربراہ عمر خالد نے کہا ہے کہ لال مسجد کے مہتم مولانا عبدالعزیز اورعبدالرشید غازی کا بقول ان کے ’شرعی نظام کے نفاذ کا مشن‘ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے مسلح جدوجہد سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ کچھ مسلح افراد نے جن کے لیے ’مقامی طالبان‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے، اتوار کو مہمند ایجنسی کے غازی آباد کے علاقے میں جنگ آزادی کے ایک اہم رہنماء حاجی صاحب ترنگزئی کےمزار اور اس سے ملحقہ مسجد انتظام سنبھال لیا اور ایک بورڈ لگا دیا تھا جس پر لال مسجد لکھا ہوا تھا۔ عمر خالد نے مذکورہ مسجد سے بذریہ ٹیلی فون بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لال مسجد کے آپریشن پر غمزدہ مسلمانوں کویہ اطمینان دلانے کے لیے مسجد پر قبضہ کر لیا ہے کہ لال مسجد سے شروع ہونے والے شرعی نظام کے نفاذ کامشن جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے فی الوقت شرعی نظام کے نفاذ کا اعلان نہیں کیا ہے البتہ وہ پاکستان میں شرعی نظام کا نفاذ چاہتے ہیں اور اسکے لیے چاہے انہیں جدوجہد کیوں نہ کرنی پڑے۔ان کامزید کہنا تھا کہ اگر حکومت نے انکا راستہ روکنے کی کوشش کی تو وہ پھر مسلح جدوجہد شروع کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔
عمر خالد سے جب پوچھا گیا کہ آخر پوری مہمند ایجنسی میں انہوں نے صرف حاجی صاحب ترنگزئی کی مسجد پر قبضہ کرنے کا انتخاب کیوں کیا تو انکا کہنا تھا کہ حاجی صاحب ترنگزئی نے برصغیر پر انگریزوں کے قبضے کے خلاف مسلح جدوجہد کی تھی اور ’ہم چونکہ مجاہد ہیں لہذا انہیں اپنا ہیرو اور پیشوا مانتے ہوئے انکے مزار اور مسجد آئے ہیں تاکہ یہاں مدرسہ قائم کریں اور یہاں ہی سے ہم اپنا مشن بہتر طور پر آگے بڑھاسکتے ہیں۔‘ عمر خالد کا کہنا ہے کہ مقامی لوگ بلا خوف و خطر مسجد میں آکر نماز پڑھ سکتے ہیں لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ لوگ مسلح افراد کی موجودگی یا بندوق کے سائے میں نماز پڑھیں تو انکا جواب تھا کہ ’قبائلیوں کے ساتھ ویسے بھی اسلحہ ہوتا ہے لہذا اس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک ان کے خلاف کوئی حکومتی اقدام نہیں ہوا ہے اور نہ ہی حکومت نے ان کے ساتھ کوئی رابطہ قائم کیا ہے۔ ان کے بقول جلد ہی طالبات کے لیے درس و تدریس کا آعاز کر دیا جائے گا۔ اس سوال کہ جواب میں کہ کیا وہ مسجد سے اپنا قبضہ ختم کرنے کا کوئی ارادہ ارادے رکھتے ہیں تو طالب کمانڈر کا کہنا تھا کہ ’نہیں کبھی نہیں ہم مرتے دم تک مسجد سے اپنا قبضہ ختم نہیں کریں گے‘۔ | اسی بارے میں رشید غازی : میڈیا سے کھیلنے کا مزا 11 July, 2007 | پاکستان خیبر ایجنسی: لڑائی میں نو افراد ہلاک14 July, 2007 | پاکستان ہلاکتوں کی تعداد پرشکوک12 July, 2007 | پاکستان جامعہ حفصہ سے لاش برآمد22 July, 2007 | پاکستان طالبان کی مزید حملوں کی دھمکی22 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||