BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 July, 2007, 12:07 GMT 17:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خیبر ایجنسی: لڑائی میں نو افراد ہلاک

فائل فوٹو: علاقے میں سکیورٹی فورسز تعینات ہیں
فائل فوٹو: علاقے میں سکیورٹی فورسز تعینات ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے تحصیل باڑہ میں حکام کا کہنا ہے کہ دو مبینہ مقامی شدت پسند تنظیموں کے درمیا ن ہونے والی ایک جھڑپ میں نو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔ جبکہ صوبہ سرحد کے ضلع دیر میں فوج کی بیرکوں پر راکٹ حملے کیے گئے ہیں۔

پولٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی صبح باڑہ سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور سنڈا پل کے علاقے میں لشکر الاسلام کے مسلح افراد نے پہاڑ پر واقع انصارالاسلام کے مورچے پر قبضہ کرنے کے لیے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ حملہ کردیا تھا۔

اہلکار کے مطابق پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی لڑائی میں لشکرالاسلام کے آٹھ اور انصارالاسلام کا ایک مبینہ جنگجو ہلاک ہوگیا ہے۔ جبکہ دونوں طرف سے چار چار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

تاہم فریقین نے ہلاکتوں سے متعلق متضاد دعوے کیے ہیں۔ انصارالاسلام کے ترجمان مولانا مستمیم نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ لڑائی کے دوران مخالف فریق کے بارہ افراد ہلاک کیے گئے ہیں جن میں سے آٹھ کی لاشیں انکے پاس ہیں۔

دیر میں فوجی بیرک پر فائرنگ
 صوبہ سرحد کے ضلع دیر میں واقع ملاکنڈ یونیورسٹی کے قریب فوجیوں کی بیرک پر جمعہ-سنیچر کی رات کو دو راکٹ فائر کیے گئے ہیں جس میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے تاہم پولیس نے ابتدائی تفتیش کی لیے ستاون مشکوک افراد کو حراست میں لیا ہے۔
ادھر لشکرالاسلام کے ایک رہنما مستری گل نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انکے دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لڑائی کے دوران انکی مخالف تنظیم انصارالاسلام کے سات افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں مبینہ شدت پسند تنظیموں کے درمیان گزشتہ دو سال سے جاری لڑائی میں فریقین اپنا نقصان کم جبکہ دوسرے کی تعداد زیادہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ تحصیل باڑہ میں دونوں مبینہ شدت پسند تنظیموں کے درمیان ہونے والی لڑائی میں مقامی لوگوں کے مطابق اب تک دو سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں اور علاقے میں بظاہر حکومتی عملداری ختم ہوگئی ہے۔

فوجی بیرک پر فائرنگ
ادھر صوبہ سرحد کے ضلع دیر میں واقع ملاکنڈ یونیورسٹی کے قریب فوجیوں کی بیرک پر جمعہ - سنیچر کی رات کو دو راکٹ فائر کیے گئے ہیں جس میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے تاہم پولیس نے ابتدائی تفتیش کی لیے ستاون مشکوک افراد کو حراست میں لیا ہے۔

دیر کےضلعی رابطہ افسر ڈاکٹر عطاء الرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے بعد چالیس افراد کو ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے جبکہ سترہ افراد اب بھی زیرحراست ہیں ۔

انکے بقول حراست میں لیے گئے افراد میں سے پانچ زیادہ مشکوک افراد بھی شامل ہیں جن میں دو مقامی اور تین افغان ہیں۔انکے مطابق حملے کا نشانہ بننے والی عمارت میں جمعہ کے روز ہی تقریباً پانچ سو سے زیادہ فوجیوں کو تعینات کیا گیا تھا۔

جنوبی اضلاع میں اضافی فوج تعینات
 جنوبی اضلاع لکی مروت، پیزو، اورسرائے نورنگ میں بھی اضافی فوج کو تعینات کردیا گیا ہے اور سنیچر کو فوج اور پولیس کے اہلکاروں نے تاجہ زئی چوک پر خاردار تاریں بچھاکر رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں۔
دوسری طرف پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ پشاور کے مصروف بازار صدر میں کے ایک کار پاکنگ میں تخریب کاری میں استعمال ہونے والی ایک گاڑی کو قبضہ میں لے لیا گیا ہے جس سے ساڑھے چار کلو وزنی دو اینٹی ٹینک مائن اور آتش گیر مادہ بر آمد کیا گیا ہے۔

پشاور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس طاہر خان نے بی بی سی کوبتایا کہ گاڑی میں نصب ٹائم بم کا بروقت نہ پھٹنے سے وہاں پر موجود پولیس اہلکار نے گاڑی سے دھواں اٹھتے دیکھکر آگ بجھانے کی کوشش کی۔ انکے بقول بعد میں فائر بریگیڈ کو بلاکر آگ بجھائی گئی اور پولیس نے گاڑی سے دو ساڑھے چار کلو وزنی اینٹی ٹینک مائن اور آتش گیر مادہ بر آمد کیا۔

جنوبی اضلاع میں فوج تعینات
دریں اثناء اطلاعات کے مطابق جنوبی اضلاع لکی مروت، پیزو، اورسرائے نورنگ میں بھی اضافی فوج کو تعینات کردیا گیا ہے اور سنیچر کو فوج اور پولیس کے اہلکاروں نے تاجہ زئی چوک پر خاردار تاریں بچھاکر رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں۔

فوج اور پولیس کے اہلکار لکی مروت کے راستے بنوں، میانوالی اور پشاور کی طرف جانے والی گاڑیوں کی تلاشی لے رہےہیں۔ صوبہ سرحد کی حکومت کی درخواست پر صوبے کے جنوبی اضلاع میں تقریباً بارہ ہزار اضافی فوجیوں کو تعیبنات کردیا گیا ہے تاکہ ان علاقوں میں طالبانائزیشن کا عمل روکا جاسکے۔

فوجفاٹا: سالنامہ 06
فوجی کارروائیاں، ہلاکتیں اور امن معاہدے
درگئی ہلاکتیں
حملہ آور کے ساتھی کی تلاش جاری ہے
ظلم کرے گا تو۔۔
پاکستان کیساتھ معاہدہ ختم ہوسکتا ہے: فقیرمحمد
وزیرستان امن معاہدہ
فریقین معاہدے پرعمل کریں گے: رکن جرگہ
باجوڑ کے زخمی’سالمیت پر حملہ‘
باجوڑ حملہ ملکی سالمیت پر حملہ ہے: ماہرین
ڈک چینیاسلام آباد پر دباؤ
ڈک چینی کا دورہ، پاکستان کی جھنجلاہٹ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد