نیئر شہزاد اسلام آباد |  |
 | | | لاشوں کی صحیح تعداد کا پتہ نہیں لگایا جاسکا ہے |
اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے اور ضلعی انتطامیہ کو اتوار کے روز جامعہ حفصہ سے ایک مبینہ شدت پسند کی لاش ملی ہے جو غالباً لال مسجد کے خلاف فوجی کارروائی کے دوران مارا گیا تھا۔ ایس ایس پی اسلام آباد ظفر اقبال کے مطابق یہ لاش جامعہ حفصہ کے کچن کے قریب سے ملی ہے اور وہاں پر کام کرنے والے سی ڈی اے کے اہلکاروں نے مقامی پولیس کو اطلاع دی جنہوں نے موقع پر پہنچ کر لاش کو قبضے میں لیکر پمز ہسپتال بھجوا دیا۔ ایس ایس پی کے مطابق اس مبینہ شدت پسند کا صرف چہرہ قابل شناخت ہے جبکہ اس کے جسم کا باقی حصہ ناقابل شناخت ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شخص کا سر ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو وہاں سے ایک عدد کلاشنکوف، تین میگزین، ایک سو انچاس گولیاں اور ایک ہینڈ گرنیڈ ملے ہیں۔ جب اس مبینہ شدت پسند کی شناخت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس کی شاخت ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ سی ڈی اے کے عملے نے ابھی تک جامعہ حفصہ کے چودہ کمرے گرائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام کمروں کو گرایا جائے گا جو تجاوزات کے زمرے میں آتے ہیں۔ واضح رہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف تین جولائی سے گیارہ جولائی تک جاری رہنے والے اس آپریشن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر ایک سو دو افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں اس آپریشن میں حصہ لینے والے نو فوجی بھی شامل ہیں۔ ادھر سی ڈی اے کا عملہ جامعہ حفصہ کا ملبہ جی سیون ٹو میں واقع ایک مارکیٹ کے قریب پھینک رہے ہیں اور قریبی علاقوں کے رہائشی افراد نے اس ملبے سے کٹے ہوئے پاؤں، انگلیاں، خون آلودہ کپڑے اور قرآن پاک کے کاغذات ملے ہیں جس پر لوگوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ ادھر سی ڈی اے کے عملے نے سنیچر کی رات کو وہاں سے جامعہ حفصہ کے ملبے کو اٹھا کر دوسری جگہ پھینک دیا ہے۔ |