’درخت کے پتوں اور بارش کے پانی پر زندہ تھے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی وزارت داخلہ نے عبدالرشید غازی کے ساتھ جامعہ حفصہ میں ہلاک ہونے والے جن چھ افراد کو مطلوب دہشت گرد قرار دے کر انکی لاشیں شناخت کرنے کی کوششیں شروع کر رکھی ہیں ان میں ایک مولانا انعام اللہ ہیں جو رشید غازی کے پھوپھی زاد بھائی بھی تھے۔ بدھ کی رات جب میں اسلام آباد کے مضافات میں واقع مولانا انعام اللہ کے مسجد سے منسلک حجرے میں پہنچا تو لال مسجد آپریشن میں ہلاک ہونے والے مولانا انعام اللہ کے بڑے بھائی موبائل فون پر رابطوں کے ذریعے ان کی لاش حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے تھے۔ حجرے کے اندر مولانا کی دو بیوائیں اور چار بچے موجود تھے مگر نہ رونے کی آوازیں تھیں نہ ہی سوگواروں کا مجمہ۔ جب میں نے مولانا انعام کے بڑے بھائی سے ان کی لال مسجد روانگی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ لال مسجد کے باہر فائرنگ کے واقعے کے روز انعام اللہ اپنے رشتہ دار نورمحمد کو لینے گئے تھے جو جامعہ حفصہ میں طالب علم ہے۔ اس وقت چاروں طرف سے فائرنگ چل رہی تھی اور مولانا کو مسجد سے نکلنے کا موقع نہ مل سکا اور رات کسی پہر کرفیو بھی لگ گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں فون پر رابطہ ہونے پر بھائی نے کہا کہ اللہ سے میرے لیے شہادت کی دعا کریں۔
مولانا انعام کے بڑے بھائی نے بتایا کہ ان کی بھائی نے بچپن سے ہی تعلیم کی طرف توجہ دی اور بعد میں فارغ ہوکر مختلف مدارس میں پڑھاتے رہے۔ وہ کبھی افغانستان نہیں گئے اور نہ ہے کبھی جہاد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مدرسے میں چودہ یا پندرہ کلاشنکوفیں اور تین ریپیٹرز تھیں اورمولانا غازی کے ساتھ گن مین۔ مولانا کے بڑے بھائی نے مزید بتایا کہ ان کی خالہ کا بیٹا عطا محمد بھی مسجد میں موجود تھا جس کے پاس ایک کلاشنکوف تھی جس سے اس نے کافی مزاحمت کی۔ اس نے مسجد کی دیوار کے ساتھ رینگ کر آگے بڑھنے والے سات فوجیوں کو نشانہ بنایا اور سب کو گرتے ہوئے دیکھا۔ عطا محمد سے مولانا انعام اللہ کے بڑے بھائی کی بات ہوتی رہی اور انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں بچا اور وہ تین دن سے درختوں کے پتے کھا رہے تھے۔ مولانا کے بڑے بھائی کے مطابق عطا محمد نے کہا کہ وہ شدید پیاس کی وجہ سے بے ہوش ہونے کے قریب تھے اور اس کے لیے مزید بات کرنا مشکل ہورہا تھا تاہم اسی رات ہونے والی بارش کے بعد انہوں نے بارش کا پانی پی کر اپنی پیاس بجھائی۔ بعد میں عطاء الرحمن سے جب رابطہ ہوا تو اس نے کہا کہ اللہ نے بارش برسا کر ان کی غیبی مدد کی ہے۔ اس دوران اس کی مولانا غازی سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت مسجد اور مدرسے میں تقریبا تین ہزار لوگ موجود تھے جو آخری دم تک وہاں موجود رہے۔ مولانا انعام اللہ کے بھائی نے بتایا کہ ان کی لاش ابھی تک حکام کے پاس ہے اور یہ لاشیں نہیں دی جا رہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ عبدالرشید غازی کے دیگر تین خالہ زاد بھائیوں اور والدہ کی لاشیں ان کے حوالے کی جائیں۔ |
اسی بارے میں غازی کی تدفین روجھان میں متوقع11 July, 2007 | پاکستان 8 فوجی ہلاک، 29 زخمی ہوئے10 July, 2007 | پاکستان علما اور وزراء کا عبدالرشید سے رابطہ09 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ جاری، اکیس ہلاکتیں06 July, 2007 | پاکستان ’مشرف کے طیارے پر ناکام حملہ‘06 July, 2007 | پاکستان فائرنگ کا تبادلہ پھر شروع06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ سے دیواریں چھلنی06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد سے نکلنے کے لیے طلبا کو مہلت05 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||