BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 July, 2007, 15:19 GMT 20:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان کی مزید حملوں کی دھمکی

لال مسجد آپریشن کے بعد کئی حملے ہوئے ہیں
لال مسجد آپریشن کے بعد کئی حملے ہوئے ہیں
شمالی وزیرستان کے مقامی طالبان کے اہم رہنما مولانا عبدالخالق حقانی نے پاکستانی فوج اور ملیشیا پر حالیہ خود کش بم حملوں کی ذمداری قبول کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے ’مجاہدین‘ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں ’شہید‘ ہونے والے طلباء و طالبات کا بدلہ ضرور لیں گے۔

پشاور میں اخباری دفاتر کوسنیچر کے روز فیکس کے ذریعے بھیجے گئے مولانا عبدالخالق سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گوریلا کارروائیوں اور ’فدائی‘ حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اور فوجیوں اور ملیشیا کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’باتوں سے نہ سمجھنے والے قبائلی ملکان اور مقامی پولیس (خاصہ داروں) کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے‘

مولانا عبدالخالق کا یہ بیان جس کو اُنہوں نے ’خصوصی بیان‘ قرار دیا ہے، ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب حکومت سر توڑ کوششیں کر رہی ہے کہ طالبان نے شمالی وزیرستان کے جس امن معاہدے کو توڑنے کا اعلان کیا ہے اس کوبچایا جائے۔

معاہدے کی خلاف ورزی؟
 دس جولائی کو اسلام آباد میں لال مسجد پر فوجی آپریشن کے بعد شمالی وزیرستان کے مقامی طالبان کے رہنماؤں کی جانب سے پندرہ جولائی کو یہ کہہ کر پچھلے سال کے امن معاہدے کو توڑ دیا گیا تھا کہ حکومت نے امن معاہدے کی بعض شقوں پر عملدرآمد نہیں کیا۔
مولانا عبدالخالق شمالی وزیرستان میں حکومت مخالف سرگرمیاں کرنے والے مقامی طالبان کے ایک کلیدی رہنما ہیں اور پچھلے سال ستمبر میں حکومت کے ساتھ شمالی وزیرستان میں امن قائم کرنے کے لیے کیے گئے معاہدہ پر اُن کے دستخط بھی شامل تھے۔

بی بی سی اُردو نے حکومت کے متعلقہ نمائندوں سے اس بارے میں جب پوچھا کہ کیامولانا عبدالخالق کے اس بیان کا بات چیت کے ذریعے امن معاہدے کو بچانے کی حکومت کی جاری کوششوں پر کسی قسم کا منفی اثر پڑ سکتا ہے اور کیا حکومت ایسے لوگوں سے معاہدہ کرنا چاہے گی جو فوج پر حملے کرنے میں ملوث ہیں، تو اُن کا کہنا تھاکہ وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ اس بارے میں کچھ کہہ سکیں۔

وفاقی وزیرِمملکت برائے اطلاعات و نشریات طارق عظیم کا کہنا تھا کہ اس بارے میں فوج کے تعلقات ِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل وحید ارشد بہتر انداز میں کچھ کہہ سکیں گے۔

جب اُن سے کہا کہ بات چیت تو حکومت کر رہی ہے نہ کہ فوج، تو اُنہوں نے کہا کہ میجر جنرل وحید ارشد کو ’زمینی حقائق‘ کا علم ہوگا اور وہ اس بیان کی صحت کے بارے میں زیادہ بہتر آگاہی رکھتے ہونگے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ چونکہ بات چیت کے عمل کی صوبہ سرحد کے گورنر نگرانی کر رہے ہیں، لہذا وہ اس بارے میں بہتر طور پر کچھ کہہ پائیں گے۔ اس سلسلے میں جب صوبائی گورنر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ اتوار کو وہ چُھٹی پر ہوتے ہیں۔

طارق عظیم کے علاوہ بریگیڈیئر (ر) جاوید اقبال چیمہ، جو کہ محکمہ داخلہ میں قائم حکومت کی کرائسس مینیجمینٹ سیل کے سربراہ ہیں، کا بھی یہ کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ وزیرستان سے جاری ہونے والے بیانات کی سچائی کا جاننا ضروری ہوتا ہے۔

’روزنامہ پاکستان‘ کی ترسیل
 مولانا عبدالخالق حقانی کی جانب سے پشاور سے چھپنے والے ’روزنامہ پاکستان‘ کی شمالی وزیرستان میں ایک ہفتہ تک داخلہ پر پابندی لگائے جانے کے بعد مذکورہ اخبار کی ترسیل روک دی گئی ہے۔
کمپیوٹر کے ذریعے چھاپے کے بعد فیکس کیے گئے بیان میں مولانا خالق نے کہا کہ جامعہ حفصہ والوں کے تمام مطالبات جائز تھے اور یہ کہ اُن پر فوج، پولیس اور رینجرز نے ’جبر و تشدد‘ کیا۔

دس جولائی کو اسلام آباد میں لال مسجد پر فوجی آپریشن کے بعد شمالی وزیرستان کے مقامی طالبان کے رہنماؤں کی جانب سے پندرہ جولائی کو یہ کہہ کر پچھلے سال کے امن معاہدے کو توڑ دیا گیا تھا کہ حکومت نے امن معاہدے کی بعض شقوں پر عملدرآمد نہیں کیا۔

طالبان کے اعلان کے فوراً بعد حکومت نےامن معاہدہ کو بچانے کی کوششیں شروع کر دیں جو تاحال کسی بڑی کامیابی کے بغیر جاری ہیں۔ امن معاہدے کو بچانے کی حکومت کی کوششوں کے دوران ہی شمالی وزیرستان اور صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں فوجی قافلوں پرخود کش حملوں میں پچاس سے زیادہ فوجی اور میلیشیا فورس کے اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

اخبار کی ترسیل روک دی گئی
مولانا عبدالخالق حقانی کی جانب سے پشاور سے چھپنے والے ’روزنامہ پاکستان‘ کی شمالی وزیرستان میں ایک ہفتہ تک داخلہ پر پابندی لگائے جانے کے بعد مذکورہ اخبار کی ترسیل روک دی گئی ہے۔

مولانا عبدالخالق نے کہا تھا کہ ستر سے زائد علماء کے دستخطوں سے تصدیق شدہ ’فتویٰ‘ کی روشنی میں ’روزنامہ پاکستان‘ کی شمالی وزیرستان میں داخلے پر ایک ہفتہ کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

مولانا خالق کے فیکس شدہ بیان، جس پر کوئی ٹیلیفون نمبر نہیں جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ یہ بیان کس جگہ سے فیکس کیا گیا، کے مطابق مذکورہ اخبار پر اس لیے پابندی عائد کی گئی ہے کیونکہ اس میں خودکش حملوں کی وجہ سے ہلاک ہونے والے فوجیوں کو ’شہید‘ لکھا جاتا ہے۔

بیان میں لکھا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں کسی بھی ایسے اخبار کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی جو کہ ہلاک شدہ فوجیوں کو ’شھید‘ کے طور پر پیش کرے گا۔

پابندی کا جواز پیش کرتے ہوئے بیان میں لکھا ہے کہ ’اسلام میں آزادئ فکر ہے، آزادئ کفر نہیں‘۔ پابندی پر عملدرآمد کے حوالے سے جب شمالی وزیرستان میں اخباروں کا کاروبار کرنے والے ایک شخص سے ٹیلیفون پر پوچھا گیا تو اُنہوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پابندی کا سامنا کرنے والے اخبار کے شمارے پشاور سے آج شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ نہیں بھجوائے گئے۔

مذکورہ اخبار کے پشاور میں متعین ایک نامہ نگار سے جب رابطہ کیا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ پابندی کی اصل وجہ میران شاہ میں مقامی نامہ نگاروں کی باہمی چپقلش ہے جس کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کے مقامی طالبان نے توجہ دلوائے جانے کے بعد اخبار کے داخلے پر پابندی لگائی ہے۔

انعام اللہ ہلاک
’درخت کے پتوں اور بارش کے پانی پر زندہ تھے‘
لال مسجد آپریشن
والدین بچوں کی تعلیم کے لیے فکرمند
لال مسجد’ کمپلیٹ ٹیرارِزم ہے‘
آپریشن کی ٹی وی کوریج سے بچوں پر کیا اثر پڑا؟
چودھری شجاعتآخری بات
گزشتہ رات مذاکرات ختم ہو گئے تھے
 عینی شاہدین کے مطابق ایک ایک تابوت میں دو دو لاشیں دفن کی گئیںہلاکتوں کی تعداد
لال مسجد میں ہلاکتوں کی تعداد پر شکوک
 جنرل مشرفدس جولائی کے بعد
لال مسجد آپریشن، جنرل مشرف کے لیے لاٹری؟
اسی بارے میں
لال مسجد: ایک کمانڈو ہلاک
07 July, 2007 | پاکستان
لال مسجد: بات چیت جاری
09 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد