لال مسجد: پاکستان میں مظاہرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد کے خلاف ہونے والے فوجی آپریشن کے خلاف جمعہ کو متحدہ مجلس عمل اور وفاق المدارس کے زیرِاہتمام پاکستان کے زیادہ تر حصوں میں احتجاجی مظاہرے اور جلسوں کا انعقاد کیا گیا ہے۔ لال مسجد کے خلاف ہونے والے فوجی آپریشن کے خلاف سب سے بڑا مظاہرہ ایم ایم اے اور وفاق المدارس کے زیر اہتمام صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں کیا گیا۔ اس مظاہرے میں تقریباً دو ہزار افراد نے شرکت کی جنہوں نے جنرل پرویز مشرف کی حکومت کیخلاف نعرے بازی کی اور انہوں نے ٹائروں کو آگ لگا کر سڑک بند کردی۔ ملتان میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت کرنے والوں نے صدر بش اور جنرل پرویز مشرف کے پتلے نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی مگر وہاں پر موجود پولیس کے اہلکاروں نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ لاہور میں ہمارے نگار عبادالحق کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں بھی آپریشن کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے جس میں فوجی آپریشن کی مذمت کرتے ہوئے حکومت پر شدید نکتہ چینی کی گئی۔ متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کی صوبائی قیادت کی سربراہی میں لاہور پریس کلب کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ایم ایم اے میں شامل مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔مظاہرین نے صدر جنرل پرویز مشرف کے علاوہ حکومت اور وفاقی وزیر مذہبی امور اعجاز الحق کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے اس موقع پر صدر جنرل مشرف کا پتلا بھی نذِر آتش کیا۔ ایم ایم اے پنجاب کے صدر لیاقت بلوچ سمیت مجلس عمل کے دیگر ر ہنماؤں نے آپریشن کی شدید مذمت کی اور اس واقعہ کی سپریم کورٹ سے عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقررین نے جنرل مشرف کے قوم سے خطاب کو مسترد کر دیا اور کہا کہ حکومت کی طرف سے ہونے والی تحقیقات کو تسلیم نہیں کرتے۔
جماعت الدعوۃ پاکستان کے امیر حافظ محمد سعید نے مسجد القادسیہ میں لال مسجد میں ہلاک ہونے والوں کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی جس میں ہزاروں مرد و خواتین نے شرکت کی۔ لاہور پریس کلب کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے اور مساجد میں ہلاک ہونے والوں کی دعائے مغفرت کی گئی۔ لاہور سمیت صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے تاہم ان میں توقع کے بر عکس کم تعداد میں لوگوں نےشرکت کی۔ کراچی میں ایم ایم اے کے زیر اہتمام لسبیلہ چوک پر ہونے والے مظاہرے میں تقریباً دو سو افراد نے شرکت کی ہے ۔مظاہرین نے فوجی آپریشن کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوج اور جنرل پریز مشرف کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرے سے ایم ایم اے کے رہنماؤں منور حسن، معراج الہدٰی اور سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے لال مسجد کے خلاف ہونے والے فوجی آپریشن کی حمایت کرنے پر پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی سربراہ بے نظیر بھٹو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ مقررین نےدعوٰی کیا کہ آپریشن کے دوران ایک ہزار کے قریب طلباءاور طالبات ہلاک ہوئی ہیں لیکن حکومت ہلاکتوں کی تعداد چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق بلوچستان کے مختلف شہروں میں لال مسجد اور جامعہ حفضہ کےحوالے سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں اور فوجی حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ کوئٹہ میں جمعہ نماز کے بعد مرکزی جامعہ مسجد سے ریلی نکالی گئی جو مختلف بازاروں سے ہوتی ہوئی میزان چوک پہنچی جہاں جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گورپ کے مقامی قائدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں بے گناہ بچوں اور بچوں پر بمباری اور فائرنگ سے صدر جنرل پرویز مشرف اپنے اقتدار کو طول دینا چاہتے ہیں۔ جماعت کے ضلعی امیر مولانا فضل محمد بڑیچ نے کہا کہ یہ امریکی صدر بش کی صلیبی جنگوں والی پالیسی ہے جس سے وہ مسلمانوں کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ اس جلسے میں مختلف قراردادیں منظور کی گئی ہیں جن میں بینظیر بھٹو اور الطاف حسین کے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے بارے میں بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ دونوں قائدین اپنے بیانات واپس لیں۔ ایک قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جامعہ حفصہ، لال مسجد، جامعہ فریدیہ وغیرہ مولوی عبداللہ کے اہل خاندان یا وفاق المدارس کے حوالے کیے جائیں۔ بلوچستان کے شہر ژوب اور پشین میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔
دارالحکومت اسلام آباد میں نمازِ جمعہ کے بعد مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے اس اقدام کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔اسلام آباد میں متحدہ مجلس عمل کی کال پر سینکڑوں احتجاجی مظاہرین نے جلوس نکالا۔ جلوس کے شرکاء نے بینر اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت مخالف نعرے درج تھے۔ احتجاجی جلوس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے جہاں ایک طرف لال مسجد کی انتظامیہ کے رویے سے لاتعلقی کا اعلان کیا وہیں حکومت کی جانب سے کیے جانے والے آپریشن کی شدید مذمت کی۔ پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کے مطابق صوبہ سرحد میں سب سے بڑا مظاہرہ ایم ایم اے کے زیر اہتمام ضلع بٹگرام میں کیا گیا ہے جس میں ایک اندازے کے مطابق پندرہ سو سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے الزام لگایا کہ جنرل مشرف امریکہ کے ایجنڈے پرعمل پیرا ہیں اور بقول انکے جنرل مشرف اور صدر بش کے سوچ وفکر میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ پشاور میں بھی ایم ایم اے کے زیر اہتمام ہونے والے مظاہرے میں صوبائی وزیر امان اللہ حقانی اور ایم این اے صابر اعوان اور دیگر مقررین نے سپریم کورٹ سےمطالبہ کیا ہے کہ وہ لال مسجد کیخلاف فوجی آپریشن کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے لائے جاسکیں۔انہوں دھمکی دی کہ اگر جنرل پرویز مشرف نے مساجد اور مدارس کیخلاف مہم جاری رکھی گئی تو اسلام آباد تک احتجاجی مارچ کیا جائے گا۔اسکے علاوہ صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں نوشہرہ، مردان،چترال، ڈی آئی خان ،مانسہرہ ، ہنگو اور کالاڈھاکہ میں بھی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ |
اسی بارے میں غازی کی تدفین روجھان میں متوقع11 July, 2007 | پاکستان 8 فوجی ہلاک، 29 زخمی ہوئے10 July, 2007 | پاکستان علما اور وزراء کا عبدالرشید سے رابطہ09 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ جاری، اکیس ہلاکتیں06 July, 2007 | پاکستان ’مشرف کے طیارے پر ناکام حملہ‘06 July, 2007 | پاکستان فائرنگ کا تبادلہ پھر شروع06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ سے دیواریں چھلنی06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد سے نکلنے کے لیے طلبا کو مہلت05 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||