BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 July, 2007, 00:30 GMT 05:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مسجد میں کئی مطلوب دہشتگرد ‘

وزیر اعظم شوکت عزیز اور لال مسجد کے طلباء
اعجاز الحق وزیر اعظم کے ساتھ تھے جب وہ اتوار کو لال مسجد سے نکلنے والے طلبا سے ملے

اتوار کو وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اعجاز الحق نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ لال مسجد کا کنٹرول اب مولانا عبد الرشید کے نہیں بلکہ مطلوب شدت پسندوں کے ہاتھوں میں ہے۔

وزیر کا کہنا تھا کہ لال مسجد اور جامع حفصہ کا کنٹرول ان شدت پسند افراد نے سنبھال لیا ہے جنہیں مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز اور ان کے بھائی مولانا عبالرشید نے ان کی حفاظت کے لیے مسجد میں بلایا تھا۔ اعجاز الحق کا کہنا تھا کہ مسجد میں ’پانچ تک تربیت یافتہ مطلوب دہشت گرد موجود ہیں۔‘


اعجاز الحق نے بتایا کہ لال مسجد کے محاصرے کے پہلے روز مارے جانے والے ایک شخص کی شناخت ہوئی ہے اور وہ کالعدم تنظیم جیش محمد کا رکن مقصود احمد تھا۔یہ شخص سنہ دو ہزار چار میں اٹک میں وزیر اعظم شوکت عزیز پر قاتلانہ حملے میں مطلوب تھا۔

وفاقی وزیر نے دعوی کیا کہ مسجد کے اندر خواتین اور بچوں کو مسجد سے ملحقہ مدرسے جامعہ حفصہ کی دو منزلوں پر بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دہشتگردوں نے مدرسے میں موجود طلباوطالبات کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور انہیں باہر آنے نہیں دیا جا رہا۔

اعجاز الحق اتوار کو وزیر اعظم شوکت عزیز کے ہمراہ اس موقع پر بھی موجود تھے جب لال مسجد سے نکلنے والے کئی طلبا کو ان کے خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔

فائرنگ، خاموشی، براہ راست نشریات بند
لال مسجد سے اتوار شام ساڑھے آٹھ بجے کے قریب شروع ہونے والی فائرنگ گھنٹہ بھر جاری رہنے کے بعد بند ہو گئی۔ سکیورٹی حکام نے جی سِکس کے علاقے میں واقع پریس کلب کو اپنے کنٹرول میں لے کر سر بمہر کر دیا اور وہاں موجود چند صحافیوں کو وہاں سے چلے جانے کے لیے کہا جو براہ راست صورتحال پیش کر رہے تھے۔ پریس کلب اسی علاقے میں واقع ہے جہاں کرفیو نافذ ہے۔

پولی کلینک جہاں زیادہ تر زخمیوں کو لے جایا جاتا تھا وہاں سے بھی صحافیوں کو جانے کے لیے کہا گیا۔ آپریشن کے دوران زخمی ہونے والے زیادہ تر افراد کو اسی پولی کلینک میں لایا جا رہا تھا۔

اس سے قبل لال مسجد کے سامنے سکیورٹی حکام نے میگا فون پر مسجد کے اندر موجود افراد سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ وہ زخمیوں اور لاشوں کو باہر بھیجنے کا بندوبست کریں جنہیں لینے کے لیے ایمبولینس مسجد کے نزدیک بھیجی جا رہی ہیں۔ اس اعلان کے بعد ایدھی ایمبولینس کی دو گاڑیاں لال مسجد کی جانب جاتی ہوئی دکھائی دیں۔

وفاق المدارس کا اجلاس
ادھر وفاق المدارس نے ایک اجلاس کے بعد حکومت سے سیز فائر کا مطالبہ کیا ہے۔ وفاق المدارس کے مرکزی عہدیدار حنیف جالندھری نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار احمد رضا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو مکمل جنگ بندی کرتے ہوئے لال مسجد کے لوگوں سے بات کر کے مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔

وفاق المدارس کے ایک وفد نے اتوار کو حکمران جماعت مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت سے بھی ملاقات کی اور ان سے لال مسجد کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے کوششیں کرنے پر زور دیا۔

وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس
وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے بھی اخباری کانفرنس میں مسجد انتظامیہ سے ’یرغمال’ افراد کو رہا کرنے کی اپیل کی ہے اور اپنے آپ کو بھی حکومت کے حوالے کرنے کے لیے کہا ہے۔ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے عبدالرشید غازی کے اس دعوے کی تردید کی کہ گزشتہ روز سیکیورٹی ایجنسیوں کی فائرنگ سے مدرسے کی چھت گر گئی ہے جس سے تین سو سے زائد طالبات ہلاک ہوگئی ہیں۔


اتوار کو لال مسجد کے مزید دو طلباء نے اپنے آپ کو قانون کے حوالے کیا ہے۔ ان میں سے ایک مردان کے پچیس سالہ نور حیات جبکہ دوسرے گلگت کے اسی سالہ شاہ اکبر ہیں۔ حکام نے انہیں حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ تاہم انہیں بھی میڈیا سے دور رکھا گیا ہے۔

انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ لال مسجد سے رضاکارانہ طور پر باہر آنے پر حراست میں لیے جانے والے ڈیڑھ سو طلبا و طالبات کو اتوار کو رہا کیا گیا ہے۔ان طلباء کو اڈیالہ جیل سے سپورٹس کمپلیکس کے احاطے میں پہنچایا گیا۔ جہاں انہیں کڑے پہرے میں رکھا گیا اور پھر والدین کے حوالے کر دیا گیا۔

ہارون اسلام
ہارون اسلام اب تک ہلاک ہونے والے سیکیورٹی دستوں کے سب سے اعلٰی عہدیدار ہیں۔

سیکٹر جی سکس کے کرفیو زدہ علاقے میں صحافیوں کی آمد ورفت میں سہولت کے لیے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے میڈیا کے لیے خصوصی پاس جاری کیے ہیں اور لال مسجد سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک عارضی میڈیا سنٹر بھی قائم کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ مسجد کے احاطے میں محصور نائب خطیب عبدالرشید غازی نے ملکی و غیر ملکی میڈیا کو اتوار کو لال مسجد میں اپنی پریس کانفرنس میں آنے کی دعوت دی تاہم لال مسجد کے گرد سکیورٹی اقدامات کے باعث ایسا ممکن نہ ہو سکا۔

لال مسجد اور اس سے منسلک جامعہ حفصہ کے مذہبی شدت پسندوں کے خـلاف منگل کو شروع کیے گئے آپریشن میں سکیورٹی فورسز اور ہتھیار بندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں اب تک بائیس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔آپریشن کے آغاز سے لیکر اب تک بارہ سو کے لگ بھگ طلبا و طالبات لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو چھوڑ چکے ہیں۔ لیکن خیال کیا جا رہا ہے کہ ابھی بھی خاصی تعداد میں لوگ لال مسجد میں موجود ہیں۔

آپریشن کا چوتھا روز
جمعہ کی شام آپریشن پھر شروع ہو گیا
لال مسجدنفاذِ شریعت
لال مسجد میں نماز جمعہ کے خطبے کا متن
احتجاج فائل فوٹو برقعے نے ڈبو دیا
برقعہ میں فرار نے حامیوں کو مایوس کر دیا
طالبہ جامعہ حفصہ
’اسلحے کی کمی کا شدت سے احساس ہوا‘
عبدالرشید غازی (فائل فوٹو)عبدالرشید سے مولانا
وہ حافظ کے لفظ سے احتراز کرتے رہے
زخمیوں کا تانتا
لال مسجد کے گرد واقعات کا آنکھوں دیکھا حال
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد