BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 31 July, 2007, 08:41 GMT 13:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فضائی کارروائی، اٹھارہ افراد ہلاک

وزیرستان میں فوجی چوکی (فائل فوٹو)
وزیرستان میں فوجی چوکیوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے(فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوج کی جانب سے ایک فضائی کارروائی میں اٹھارہ ’شدت پسند‘ ہلاک ہوگئے ہیں، جبکہ ٹانک میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں چھ فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق فوجی کارروائی میں بارہ افراد موقع پر جبکہ چھ بعد میں ہلاک ہوئے۔ اسلام آباد میں فوج کے محکمہ تعلقاتِ عامہ نے واقعہ کے فوراً بعد بارہ شدت پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق فوج نے میران شاہ کے قریب دو مشکوک گاڑیوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کی ہے۔ فائرنگ کے نتیجہ میں دونوں گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔

شمالی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق فضائی کارروائی منگل کوگیارہ بجے کے قریب میران شاہ سے پانچ کلومیٹر دور بانڈہ پوسٹ کے قریب دو مشکوک گاڑیوں کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی۔ اس کارروائی کے دوران گن شپ ہیلی کاپٹروں کے علاوہ توپخانے کا استعمال بھی کیا گیا۔

شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کے شمال میں جاری لڑائی کی وجہ سے قریب ہی واقع میرانشاہ گاؤں کے مکین خوف کی وجہ سے گھروں میں محسور ہو کر رہ گئے ہیں۔

 منگل کو ٹانک سے منزائی جانے والی ایف سی کی گاڑی پھتر پل پر ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجہ میں ایف سی کے چھ اہلکار زخمی ہوگئے ہیں جن ٹانک آرمی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے
مماز زرین

میران شاہ گاؤں سے بی بی سی اردو سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے عینی شاہدین نے کہا کہ کئی گھنٹوں سے جاری دونوں اطراف کے مابین فائرنگ کے تبادلے کی وجہ علاقے کے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

اسلام آباد میں فوج کے محکمہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب میران شاہ کی جانب آنے والی دو گاڑیوں میں بیس کے لگ بھگ سوار عسکریت پسندوں نے بانڈہ پوسٹ کے قریب تعینات فوجی جوانوں کو چیلنج کیا۔

ادھر ٹانک میں پولیس کے سربراہ مماز زرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ منگل کو ٹانک سے منزائی جانے والی ایف سی کی گاڑی پھتر پل پر ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجہ میں ایف سی کے چھ اہلکار زخمی ہوگئے ہیں جن ٹانک آرمی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ صوبہ سرحد کے شہر ناٹک کی سرحد قبائلی علاقہ جات سے ملتی ہے۔

دریں اثناء شمالی وزیرستان میں ہی تحصیل میر علی میں نامعلوم افراد نے ایک خواتین انتظارگاہ اور ٹیلی فون کبینٹ کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا ہے۔پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق منگل کی صبح چار بجے کے قریب تحصیل میر علی میں میران شاہ روڈ پر واقع ایک خواتین انتظارگاہ کو نامعلوم افراد نے بارودی مواد نصب کر کے تباہ کر دیا۔

قبائلی علاقہ جات میں فوجی قافلوں پر حملوں میں تیزی آئی ہے

انتظامیہ کے مطابق میرعلی ہی کے ایک گاؤں خدی میں بھی نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سےٹیلی فون کیبنٹ کو اڑادیا ہے جس کی وجہ سے خدی کی تمام ٹیلی فون لائن منقطع ہوگئی ہیں۔

اس کے علاوہ صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع بنوں میں رات تین بجے کے قریب نامعلوم افراد نے ایک پولیس چوکی پر حملہ کیا ہے۔ بنوں پولیس کے سربراہ دار علی خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ بنوں سے پانچ کلومیٹر دور مغرب کی جانب جانی خیل کے علاقے میں ایک پولیس چوکی پر حملہ ہوا ہے جس میں خودکار ہتھیار استعمال کیا گیا ہے تاہم اس واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ چند دن پہلے ضلع بنوں کے شہری آبادی پر نامعلوم افراد نے چار راکٹ داغے تھے جو چوک بازار میں عام شہریوں کے مکانات پرگرے تھے اور اس واقعہ میں نو افراد ہلاک اور اکتالیس زخمی ہوگئے تھے۔

میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
مغویان’مہذب طالبان‘
مغوی سرکاری اہلکاروں کو شیو کی اجازت تھی۔
طالبان(فائل فوٹو)پنجابی طالبان کون؟
وزیرستان کے نئے جنگجو:عامر احمد خان
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد