BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 July, 2007, 05:45 GMT 10:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محسود آْبائی گاؤں میں سپردِ خاک

عبداللہ محسود
عبداللہ محسود ایک طویل عرصے سے روپوش تھے
بلوچستان کے شہر ژوب میں ہلاک ہونے والے جنوبی وزیرستان کے طالبان کمانڈر عبداللہ محسود کو ان کے آْبائی گاؤں نانو میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔

عبداللہ محسود نے منگل کو ژوب میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں خود کو بم سے اڑا دیا تھا۔

عبداللہ محسود کی نمازِ جنازہ کے موقع پر مقامی طالبان کی ایک بڑی تعداد جمع تھی جو مختلف ہتھیاروں سے لیس تھے۔ نمازِ جنازہ کے موقع پر تحصیل سروکئی میں کاروباری سرگرمیاں بھی معطل رہیں۔

تحصیل سروکئی کے تحصیلدار علی اکبر کے مطابق عبداللہ محسود کی نماز جنازہ میں چار ہزار افراد نے شرکت کی جن میں جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں کے علاوہ شمالی وزیرستان کے رہائشی بھی شامل تھے۔

اس سے قبل جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کمانڈر ملا نذیر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ عبداللہ محسود کی لاش بدھ کی صبح نو بجے کے قریب وانا پہنچی تھی جہاں سے اسے نانو راونہ کر دیا گیا تھا۔

ملا نذیر کے مطابق ژوب انتظامیہ نے عبداللہ کی لاش مقامی وقت کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب تحصیلدار برمل محمد فاروق اور چند مقامی طالبان کے حوالے کر دی تھی۔

ادھر اطلاعات کے مطابق عبداللہ محسود کے گرفتار ہونے والے ساتھی کو تفتیش کے لیے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ژوب میں انتظامی آفیسران سے رابطہ کرنے کی کئی بار کوشش کی گئی مگر کامیابی نہ ہو سکی۔

 جنوبی وزیرستان کے مقامی طالبان کے ایک دھڑے کے سربراہ عبداللہ محسود کی حرکت گزشتہ تین روز سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر میں تھی اور وہ پیر اور منگل کی درمیانی شب ہی ژوب آئے تھے۔
ترجمان وزارتِ داخلہ

واضع رہے کہ عبداللہ محسود نے کل صبح ژوب میں جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی جنرل سیکرٹری شیخ ایوب کے مہمان خانے میں سکیورٹی فوسرز کے گھیرے میں آ جانے کے بعد اپنے آپ کو بم سے اڑا دیا تھا۔ سکیورٹی دستوں نے ان کے ساتھی عبدالرحمان محسود کے علاوہ شیخ ایوب کے بھائی اعظم اور ان کے بھتیجے شمشیرخان کو بھی اس کارروائی میں گرفتار کیا تھا۔

پاکستانی وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے منگل کو ایک پریس بریفنگ میں بتایا تھا کہ جنوبی وزیرستان کے مقامی طالبان کے ایک دھڑے کے سربراہ عبداللہ محسود کی حرکت گزشتہ تین روز سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر میں تھی اور وہ پیر اور منگل کی درمیانی شب ہی ژوب آئے تھے۔

حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ عبداللہ محسود کی ہلاکت خالصتاٌ بلوچستان پولیس کی کاروائی کے نتیجے میں واقع ہوئی ہے اور اُن کی ژوب میں موجودگی کے بارے میں اطلاعات امریکہ کی جانب سے مہیا نہیں کی گئی تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد