BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 July, 2007, 23:13 GMT 04:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محسود کی میت وانا روانہ: اطلاعات

عبداللہ محسود
عبداللہ محسود ایک طویل عرصے سے روپوش تھے
بلوچستان کے شمال علاقے ژوب سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکام نے رات گئے جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کمانڈر عبداللہ محسود کی لاش وانا انتظامیہ کے حوالے کرکے وانا روانہ کر دی ہے۔ محسود کے گرفتار ہونے والے ان کے ساتھی کوتفتیش کے لیے اسلام آباد منتقل کردیا گیا۔ عبداللہ محسود نے منگل کے روز ژوب میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں خود کوبم سے اڑا دیا تھا۔

عبداللہ محسود کی لاش کو وانا انتظامیہ کے اہلکاروں کے حوالے کیا گیا جو رات گئے تحصیلدار فاروق محمد انور کی قیادت میں وانا سے رات گئے ژوب پہنچے تھے۔ محسود کے قریبی ساتھی عبدالرحمان محسود کوگرفتاری کے بعد اسلام آباد منتقل کردیا گیا۔

اس سلسلے میں ژوب میں انتظامی آفیسران سے رابطہ کرنے کی کئی بار کوشش کی گئی مگر کامیابی نہ ہو سکی کیونکہ کوئی بھی بات کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔

اس سے قبل عبداللہ محسود کی لاش کئی گھنٹے سول ہسپتال کے مردہ خانے میں پڑی رہی لیکن ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس کا پوسٹمارٹم نہ ہوسکا۔

ژوب کے مقامی صحافی رفیق مندوخیل نے بتایا کہ بم دھماکہ سے عبداللہ محسود کا پیٹ پھٹ چکا تھا جبکہ ایک آنکھ کوبھی نقصان پہنچا تھا۔

واضع رہے کہ عبداللہ محسو دنے کل صبح ژوب میں جمعیت علماءاسلام کے ضلعی جنرل سیکریٹری شیخ ایوب کے مہمان خانے میں اس وقت آپنے آپ کوبم سے اڑا دیا تھا۔ سیکورٹی دستوں نے ان کے ساتھی عبدالرحمان محسود کے علاوہ شیخ ایوب کے بھائی اعظم اور ان کے بھتیجے شمشیرخان کو گرفتار کر لیا جو اِس قت ژوب تھانہ میں بند ہیں۔

واقعہ کے بارے میں شیخ ایوب کے ایک رشتہ دارشیخ عالم مندوخیل نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ وہ لوگ عبداللہ محسود کونہیں جانتے تھے کیونکہ وہ رات گئے ان کے گھرمہمان کے طورپرآئے تھے اوران لوگوں نے پشتون روایات کے تحت انہیں آپنے مہمان خانے میں ٹھہرایا تھا۔

شیخ عالم کے مطابق واقعہ میں گرفتارہونے والے ان کے رشتہ دار سے جو ژوب پولیس لاک اپ میں بند ہیں ملاقا ت پر پابندی لگادی گئی ہے۔

دوسری جانب جمعیت علماءاسلام کے صوبائی امیرمولانا محمد خان شیرانی نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ شیخ ایوب کا جمعیت سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن شیخ عالم کے مطابق شیخ ایوب ابھی تک جمعیت کے ضلعی جنرل سیکریٹری ہیں اور آج کوئٹہ میں ہونے والے جمعیت علماءاسلام کے صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس میں مدعو ہیں۔

واضح رہے کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی سطح پر کئی عرصے سے دو دھڑوں میں اختلافات چلے آرہے ہیں جس میں مولانامحمد خان شیرانی کی دھڑے کواقتدار پسند اورسابق صوبائی وزیرمولانا عصمت اللہ کے دھڑے طالبان حمایتی تصورکیے جاتے ہیں اورشیخ ایوب کاتعلق بھی اس دھڑے سے بتایاگیاہے جومولانا محمدخان شیرانی کے خلاف ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد