عبداللہ محسود ۔ میڈیا فرینڈلی کمانڈر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے ضلع ژوب میں ہلاک ہونے والے جنوبی وزیرستان کے جنگجوؤں کے سربراہ عبداللہ محسود کو شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے اکتوبر دو ہزار چار میں گومل زام ڈیم منصوبے پر کام کرنے والے دو چینی انجنیئروں کو اغوا کیا جن میں سے ایک کو سکیورٹی فورسز نے کمانڈو کارروائی کے بعد بازیاب کرا لیا تھا جبکہ ایک چینی انجینئر اور پانچ مبینہ جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔ عبداللہ محسود اس واقعے کے بعد اور نیک محمد وزیر کی ہلاکت کے بعد جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کے ایک فعال سربراہ کے طور پر سامنے آئے اور عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنے۔ ڈی کام کرنے والے تیس سالہ عبداللہ محسود کو افغانستان اور گوانتنامو بے کے قیدخانوں میں وقت گزارنے کا بھی تجربہ تھا جہاں سے انہوں نے ڈیڑھ سال کی قید کاٹنے کے بعد مارچ سنہ دو ہزار چار میں رہائی پائی تھی۔ وہ طالبان کے شانہ بشانہ لڑنے کی دوران بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایک ٹانگ بھی کھو چکے تھے اور اسی وجہ سے وزیرستان کے پہاڑوں میں گھوڑے پر گھومتے نظر آتے تھے۔ چینی انجینئروں کے اغواء کے بعد وہ حکومت کی جانب سے انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہوگئے اور ان کی گرفتاری پر حکومت نے پچاس لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیاتھا جسے بعد میں واپس لے لیا گیا۔ تاہم اس واقعے کے بعد رفتہ رفتہ وہ منظرِ عام سے غائب ہوتے گئے۔ بظاہر شہرت کے شوقین عبداللہ محسود کچھ عرصے تک ذرائع ابلاغ کے ساتھ رابطے میں رہے اور وزیرستان میں فوج کی موجودگی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا امریکہ کا ساتھ دینے کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے مگر اس کے بعد وہ منظر عام سے غائب ہوگئے۔ چار ماہ تک خاموشی اختیار کرنے کے بعد وہ اس وقت دوبارہ نمودار ہوئے جب انہوں نے بی بی سی کے ساتھ رابطہ کر کے سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں اپنی ہلاکت کی افواہ کی تردید کی۔ عبداللہ محسود کے منظر عام سے غائب ہوتے ہی ایک اور قدرے خاموش اور میڈیا سے دور رہنے والے محسود جنگجو بیت اللہ محسود مقامی طالبان کے سربراہ کے طور پر سامنے آئے جنہوں نے سات فروری دو ہزارپانچ میں سرہ روغہ کے مقام پر حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ پر بھی دستخط کیے تاہم عبداللہ محسود کو اس معاہدے کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ اس معاہدے کے بعد عبداللہ محسود کا کہنا تھا کہ ’بیت اللہ کے حکومت کے ساتھ امن معاہدے سے ان کی مسلح جدوجہد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا‘۔ اس بیان کے بعد عبداللہ محسود روپوش ہوگئے اور انہوں نے میڈیا کے ساتھ تمام رابطے منقطع کر دیے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی انجینئروں کے اغواء کے بعد حکومت نےعبداللہ محسود کی خواہش کے باوجود ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا معاہدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا اور حکومتی دعوے کے مطابق سرہ روغہ کے معاہدے کے وقت بیت اللہ محسودنے خواہش ظاہر کی تھی کہ عبداللہ کو بھی معاہدے میں شامل کیا جائےتاہم حکومت نے اس مطالبے کو رد کر دیا تھا۔ طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ عبداللہ مسعود کے درون خانہ بیت اللہ محسود کے ساتھ اختلافات موجود تھے اور وہ قبائلی علاقوں کی بجائے اتحادی افواج کے خلاف طالبان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند چلے گئے تھے اور حال ہی میں وہاں سے واپس لوٹے تھے۔ ابتدائی دنوں میں ذرائع ابلاغ سے بلاخوف و خطر رابطہ رکھنے کے بارے میں جب عبداللہ محسود سے پوچھا گیا تھا کہ وہ احتیاط کیوں نہیں کرتے تو جواب میں انہوں نےکہا کہ ’راہِ حق میں خوف کیسا ڈر کیسا‘۔ | اسی بارے میں طالبان کمانڈر عبداللہ محسود ہلاک 24 July, 2007 | پاکستان ’وزیرستان، طالبان کا گڑھ‘26 April, 2006 | پاکستان وزیرستان: ایک پیچیدہ اور گنجلک مسئلہ24 December, 2005 | پاکستان ’میں جنت میں تھا‘ عبداللہ محسود17 June, 2005 | پاکستان عبداللہ محسود زندہ ہیں: ترجمان 17 March, 2005 | پاکستان ’امن معاہدے میں شامل نہیں ہیں‘09 February, 2005 | پاکستان عبداللہ: سر کی قیمت پچاس لاکھ 17 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||