طالبان کمانڈر عبداللہ محسود ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے ضلع ژوب میں حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے مقامی طالبان کمانڈر عبداللہ محسود سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران ان کے تین ساتھیوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ صوبہ سرحد سے ملحقہ بلوچستان کے سرحدی شہر ژوب کے ضلعی رابطہ آفیسر میران جان کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ عبداللہ محسود نے آپریشن کے دوران گرفتاری دینے سے انکار کیا اور خود کو بم سے اڑا دیا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر جاوید چیمہ نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی علی الصبح سکیورٹی فورسز نے ضلع ژوب میں ایک مکان پر چھاپہ مارا جس کے دوران جنوبی وزیرستان میں طالبان کے ایک کمانڈر ہلاک اور ان کے تین اور ساتھی گرفتار ہوئے۔ ژوب کے ضلعی رابطہ افسر کے مطابق انتظامیہ کو اطلاع ملی تھی کہ چند مشکوک لوگ جمعیت علمائے اسلام ژوب کے جنرل سیکرٹری شیخ ایوب کے مہمان خانے میں ٹھہرے ہوئے ہیں جس پر پولیس نے منگل کی صبح شیخ ایوب کےگھر کا محاصرہ کیا اور ملزمان کوگرفتاری دینے کے لیے کہا مگر جنوبی وزیرستان کے طالبان کمانڈر عبداللہ محسود نےگرفتاری دینے سے انکار کیا۔ اس موقع پرانتظامیہ نے بعض علماء کو بھی ان کے پاس بھیجا تاکہ مذکورہ گھرمیں موجود خواتین اوربچوں کو بچایا جا سکے۔ تاہم مذاکرات کی ناکامی کے بعد جب پولیس نے آپریشن شروع کیا تو عبداللہ محسود نے مذکورہ مہمان خانے میں ہی خود کو بم سے اڑا دیا۔ میران جان کاکڑ کے مطابق پولیس نے عبداللہ کے ساتھی عبدالرحمان محسود سمیت شیخ ایوب کے بھائی اورایک پندرہ سالہ لڑکے شمریزخان کوحراست میں لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاری کے بعد عبدالرحمان محسود کو سخت سکیورٹی میں کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ ژوب کے مقامی صحافی رفیق مندوخیل کے مطابق یہ آپریشن تقریبا ً ایک گھنٹے میں مکمل ہوا اور اس میں پولیس کے علاوہ سکیورٹی فوسرز کے خصوصی دستوں نے بھی حصہ لیا۔ عبداللہ محسود کا اصل نام نور عالم تھا اور وہ پچیس ماہ تک گوانتانامو بے میں قید بھی کاٹ چکے تھے۔ وہ حکومت کو اکتوبر دو ہزار چار میں گومل زام ڈیم منصوبے پر کام کرنے والے دو چینی انجنیئروں کے اغوا اور بعد میں ایک کی ہلاکت کے واقعے میں مطلوب تھے۔ان کی گرفتاری پر حکومت نے پچاس لاکھ روپے کے انعام کا بھی اعلان کیا تھا جسے بعد میں واپس لے لیا گیا تھا۔ جون دو ہزار چار میں بھی عبداللہ کے قتل کیے جانے کی افواہ اڑی تھی جس کی انہوں نے خود بی بی سی سے بات کر کے تردید کی تھی۔ تاہم عبداللہ محسود اب ایک طویل عرصے سے روپوش تھے اور انہوں نے ذرائع ابلاغ سے بھی تمام رابطے کاٹ دیے تھے۔ دوسری جانب حکومت ذرائع نے بتایا ہے کہ اس واقعہ کے بعد وزیرستان سے ژوب آنے والے راستوں پرحفاظتی انتظامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں کیونکہ اب اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان اور القاعدہ کے خلاف جاری آپریشن کے بعد پاکستانی فورسز کے خلاف برسرپیکار مقامی طالبان ژوب کے راستے بلوچستان میں داخل ہو کر فرار ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ چند ماہ قبل بھی سکیورٹی فورسز نے ژوب اور تفتان سے القاعدہ کے بعض مشکوک افراد گرفتار کیے تھے جن کا تعلق عرب ممالک اور ازبکستان سے بتایا گیا تھا۔ | اسی بارے میں ’وزیرستان، طالبان کا گڑھ‘26 April, 2006 | پاکستان وزیرستان: ایک پیچیدہ اور گنجلک مسئلہ24 December, 2005 | پاکستان ’میں جنت میں تھا‘ عبداللہ محسود17 June, 2005 | پاکستان عبداللہ محسود زندہ ہیں: ترجمان 17 March, 2005 | پاکستان ’امن معاہدے میں شامل نہیں ہیں‘09 February, 2005 | پاکستان عبداللہ: سر کی قیمت پچاس لاکھ 17 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||