عبداللہ حکام کی نظروں میں تھے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزارتِ داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر (ر) جاوید اقبال چیمہ نے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کے رہنما عبداللہ محسود گزشتہ تین روز سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر میں تھے۔ عبداللہ محسود نے منگل کو ژوب میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں خود کوبم سے اڑا دیا تھا۔ جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ عبداللہ محسود کی لاش کا پوسٹ مارٹم کراگیا ہے جس سے حکومت کو دو سو فیصد یقین ہے کہ یہ عبداللہ محسود ہی کی لاش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان کے مقامی طالبان کے ایک دھڑے کے سربراہ عبداللہ محسود کی نقل و حرکت گزشتہ تین دن سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر میں تھی اور وہ پیر اور منگل کی درمیانی شب ہی ژوب آئے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا عبداللہ محسود کے با رے میں یہ اطلاعات درست ہیں کہ وہ تین روز پہلے ہی افغانستان کے صوبہ ہلمند سے پاکستان واپس آئے تھا تو وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ وہ ہلمند میں کافی عرصے سے طالبان کی امریکہ مخالف سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے تھے۔ البتہ اُنہوں نے کہا کہ عبداللہ محسود کی ہلاکت خالصتاٌ بلوچستان پولیس کی کاروائی کے نتیجے میں واقع ہوئی ہے اور اُن کی ژوب میں موجودگی کے بارے میں اطلاع پاکستان کے اندرونی ذرائع سے حاصل کی گئی تھی اور اس بارے میں امریکہ کی جانب سے مہیا نہیں کی گئیں تھیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ عبداللہ محسود کی ہلاکت پاکستان کے لیے کس قدر اہم ہے، اُنہوں نے کہا کہ محسود کی ہلاکت کو اہمیت کے حساب سے نہیں دیکھنا چاہیے اور وہ حکومتِ پاکستان کو دو چینی انجنیئروں کے اغواء کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں کے مقدمات میں مطلوب تھے۔ | اسی بارے میں محسود کی میت وانا روانہ: اطلاعات24 July, 2007 | پاکستان ’وزیرستان، طالبان کا گڑھ‘26 April, 2006 | پاکستان وزیرستان: ایک پیچیدہ اور گنجلک مسئلہ24 December, 2005 | پاکستان ’میں جنت میں تھا‘ عبداللہ محسود17 June, 2005 | پاکستان عبداللہ محسود زندہ ہیں: ترجمان 17 March, 2005 | پاکستان ’امن معاہدے میں شامل نہیں ہیں‘09 February, 2005 | پاکستان عبداللہ: سر کی قیمت پچاس لاکھ 17 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||