BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 July, 2007, 08:49 GMT 13:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنوں میں میزائل حملے، نو ہلاک

 بنوں میں راکٹ حملہ
تمام زخمیوں کو بنوں سول ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع بنوں میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب شہری آبادی پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد نو ہو گئی ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں میزائل استعمال کیے گئے جو قبائلی علاقے سے فائر کیے گئے تھے۔

اس حملے میں ابتدائی طور پر ایک عورت سمیت آٹھ افراد کی ہلاکت اور اکتالیس کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی تھی تاہم بنوں سول ہسپتال کے حکام کے مطابق شدید زخمیوں میں سے ایک شخص نے بدھ کو دم توڑا ہے۔

بنوں پولیس کے سربراہ دار علی خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ شب ڈھائی بجے شمالی وزیرستان سے پہلے دو میزائل داغے گئے جوچوک بازار میں علی زمان نامی ایک شخص کے مکان پرگرے۔

پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کے بعد وہاں لوگ جمع ہوگئے اور پولیس اہلکار بھی پہنچ گئے۔ اس دوران مزید دو میزائل جائے وقوعہ پر جمع لوگوں کے درمیان گرے،جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں اور اکتالیس افراد زخمی ہوئے۔

پولیس حکام کے مطابق راکٹ حملے میں علی زمان، رحیم الدین، امیرخان اور شریف نامی شہریوں کے مکانات کو نقصان پہنچا۔

بنوں پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ تمام زخمیوں کو بنوں سول ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔ زخمیوں میں سات پولیس اہلکار بھی شامل ہیں اور ان میں سے چھ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

دار علی خٹک کا یہ بھی کہنا تھا کہ بعض چینل ہلاکتوں کی تعداد آٹھ سے زیادہ بتا رہے ہیں جو کہ درست نہیں ہے۔ پولیس کے سربراہ کے مطابق ابھی تک کسی ملزم کی گرفتاری عمل نہیں آئی ہے البتہ پولیس نے بنوں کے مختلف علاقوں میں تلاشی کا عمل شروع کر دیا ہے۔

راکٹ دو گھروں، ایک دکان اور ایک مسجد پر گرے

دار خٹک نے مزید بتایا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ عام آبادی کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ اس سے قبل پولیس، فوجی قافلوں اور سرکاری املاک پر حملے ہوتے رہے ہیں۔

جائے وقوعہ کا دورہ کرنے والے ایک مقامی صحافی عنایت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ میزائل دو گھروں اور کتابوں کی ایک دکان پر لگے ہیں۔ ان کے بقول زیادہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب لوگ پہلے میزائل کے فائر ہونے کے بعد متاثرہ لوگوں کی مدد کرنے میں مصروف تھے کہ دوسرا میزائل آ گرا۔ ان کے بقول اس علاقے کے آس پاس پولیس سٹیشن یا فوج کی کوئی ایسی چوکی موجود نہیں ہے جس سے بظاہر لگے کہ یہ اسے نشانہ بنانے کی کوشش تھی۔

واضح رہے کہ قبائلی علاقوں کے بعد صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع میں طالبانائزیشن کی ایک لہر آئی ہے جس کا حکومت بھی اعتراف کرتی ہے اور ان علاقہ جات میں راکٹ حملے، سکیورٹی دستوں پر حملے اور اغواء کے واقعات عام سی بات ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں
بنوں پولیس پر میزائل حملہ
11 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد