BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 July, 2007, 03:31 GMT 08:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انٹیلیجنس بیورو کا انسپکٹر اغواء

نقاب پوش
نقاب پوش اغواکاروں نےگاڑی سے اترتے ہی انسپکٹر بہادر نواز کو زمین پر گرا دیا
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں نامعلوم افراد نے وفاقی خفیہ ادارے انٹیلیجنس بیورو کے ایک افسر اور ان کے ایک عزیز کو اغواء کر لیا ہے۔

انٹیلیجنس بیورو کے سب انسپکٹر بہادر نواز اپنے ایک قریبی رشتہ دار محمد جاوید کے ساتھ میرعلی سکاؤٹس قلعہ سے بازار کی جانب پیدل جا رہے تھے کہ ایک سفید کار میں سوار مسلح نقاب پوشوں نے حملہ کر کے انہیں اغواء کر لیا۔

ایک عینی شاہد نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اغواء کاروں کی تعداد پانچ تھی اور تمام کے تمام مسلح تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اغواکاروں نے گاڑی سے اترتے ہی انسپکٹر بہادر نواز کو زمین پر گرا دیا اور ان کی اور ان کے ساتھی کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسلحہ کے زور پر گاڑی میں بیٹھا کر فرار ہوگئے۔

انسپکٹر بہادر نواز کے ساتھ اغواء ہونے والے محمد جاوید کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ ایک سرکاری سکول میں استاد ہیں۔ دونوں مغویوں کا تعلق ضلع بنوں کے علاقے ڈومیل سے بتایا گیا ہے۔

اس سے پہلے بھی کئی سرکاری اہلکار اغواء ہو چکے ہیں، جن میں سے بعض کو اغواکاروں نے مار دیا تھا۔ لیکن حکومت اور مقامی طالبان کے مابین امن معاہد ٹوٹنے کے بعد یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
باجوڑ حملے کے اثرات
کیا وزیرستان معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد