انٹیلیجنس بیورو کا انسپکٹر اغواء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں نامعلوم افراد نے وفاقی خفیہ ادارے انٹیلیجنس بیورو کے ایک افسر اور ان کے ایک عزیز کو اغواء کر لیا ہے۔ انٹیلیجنس بیورو کے سب انسپکٹر بہادر نواز اپنے ایک قریبی رشتہ دار محمد جاوید کے ساتھ میرعلی سکاؤٹس قلعہ سے بازار کی جانب پیدل جا رہے تھے کہ ایک سفید کار میں سوار مسلح نقاب پوشوں نے حملہ کر کے انہیں اغواء کر لیا۔ ایک عینی شاہد نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اغواء کاروں کی تعداد پانچ تھی اور تمام کے تمام مسلح تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اغواکاروں نے گاڑی سے اترتے ہی انسپکٹر بہادر نواز کو زمین پر گرا دیا اور ان کی اور ان کے ساتھی کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسلحہ کے زور پر گاڑی میں بیٹھا کر فرار ہوگئے۔ انسپکٹر بہادر نواز کے ساتھ اغواء ہونے والے محمد جاوید کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ ایک سرکاری سکول میں استاد ہیں۔ دونوں مغویوں کا تعلق ضلع بنوں کے علاقے ڈومیل سے بتایا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی سرکاری اہلکار اغواء ہو چکے ہیں، جن میں سے بعض کو اغواکاروں نے مار دیا تھا۔ لیکن حکومت اور مقامی طالبان کے مابین امن معاہد ٹوٹنے کے بعد یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ |
اسی بارے میں بنوں:اغواء کی ناکام کوشش،1 ہلاک25 June, 2007 | پاکستان صوبہ سرحد میں 2 اغوا، 2 رہا26 May, 2007 | پاکستان میرانشاہ: سرکاری اہلکار اغواء19 May, 2007 | پاکستان بنوں: اعلیٰ سرکاری افسر اغواء24 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||