’محسود کی ہلاکت گولی سے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے ضلع ژوب میں ہلاک ہونے والےجنوبی وزیرستان کے جنگجوؤں کے سربراہ عبداللہ محسود کو مبینہ طور پر پناہ دینے والے گھر کے ایک سربراہ شیخ عالم مندوخیل نے دعوٰی کیا ہے کہ عبداللہ محسود نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو بم سے نہیں اڑایا تھا بلکہ انہیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ بدھ کو ضلع ژوب سے فون پر بی بی سی اردوڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے شیخ عالم کا کہنا تھا کہ عبداللہ محسود کو انہوں نے جان بوجھ کر پناہ نہیں دی تھی بلکہ وہ اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ پیر کی رات کو بطور مہمان ان کے گھر آئے تھے۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ جب عبداللہ محسود ان کے گھر آئے تو اس وقت وہ اور گھر کے سربراہ شیخ ایوب گھر پر نہیں تھے۔ ان کے بقول ان کے یہاں شہر اور گاؤں دونوں سے مہمان آتے رہتے ہیں ’ ہم نے اپنے اسی گھر میں سرکاری اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو بھی دعوتیں دی ہیں کیونکہ بحیثیت پشتون یہ ہماری روایات کا حصہ ہے ان کے بقول پیر کی رات کو بھی دو مہمانوں نے ان کے گھر کے دروازے پر جب دستک دی تو ایک دس سالہ بچے صابر نے دروازہ کھولا اور مہمانوں نے بچے سے کہا کہ انہیں مولوی صاحب نے رات بسر کرنے کے لیے ان کے ہاں بھیجا ہے تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ مولوی صاحب کا نام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچے کو چونکہ ان باتوں کی سمجھ نہیں ہوتی ہے لہذا اس نے مہمان خانہ کا دروازہ کھول کر انہیں اندر بٹھایا اور رات کا کھانا دے کر خود دوسرے کمرے میں کمپیوٹر کے ساتھ مصروف ہوگیا۔ شیخ عالم کے دعوٰی کے مطابق منگل کی صبح ساڑھے پانچ بجے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی اور دسویں کلاس کے طالبعلم شمریزخان نے جونہی دروازہ کھولا تو پولیس نے اسے تحویل میں لے لیا۔ اس کے بعد شیخ ایوب کے بھائی شیخ اعظم جب صورتحال کو دیکھنے کے لیے باہر آئے تو پولیس نے انہیں بھی حراست میں لے لیا جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے گھر کا محاصرہ کیا اور فائرنگ شروع کردی۔ شیخ عالم کا دعوٰی ہے کہ سکیورٹی فورسز نے گھر میں ٹھہرے ہوئےمہمانوں پر شدید فائرنگ کی جس میں عبداللہ محسود ہلاک ہوگئے اور بقول ان کےحکومت کی یہ بات غلط ہے کہ انہوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑادیا تھا۔ ان کے مطابق’ اگر وہ خود کو دھماکےسے اڑاتے تو ان کاجسم ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا لیکن ان کا صرف پیٹ پھٹا تھااور ایسا فائرنگ کے نتیجے میں ہوا۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ عبداللہ محسود کی ان کے ہاں پہلی رات تھی اور وہ اس سے قبل ان کے مہمان نہیں بنے تھے۔ انہوں نے کہا اس رات کو شیخ ایوب نےجمیعت علماء اسلام کے ضلعی اجلاس میں شرکت کی اور بعد میں انہوں نے شہر میں کرائے پر ایک کمرے میں رات گزاری۔ شیخ عالم کے دعوؤں کے برعکس پاکستانی وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے منگل کو ایک پریس بریفنگ میں بتایا تھا کہ جنوبی وزیرستان کے مقامی طالبان کے ایک دھڑے کے سربراہ عبداللہ محسود کی حرکت گزشتہ تین روز سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر میں تھی اور وہ پیر اور منگل کی درمیانی شب ہی ژوب آئے تھے۔ ان کے بقول عبداللہ محسود نے خود کو اس وقت دھماکے سے اڑادیا جب سکیورٹی فورسز نے انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ ضلع ژوب کے ضلعی رابطہ آفسر میرا جان کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ عبداللہ محسود کو گرفتار کرنے کے لیے بعض علماء کو بھی ان کے پاس بھیجا گیا تھا تاکہ مذکورہ گھرمیں موجود خواتین اوربچوں کو بچایا جا سکے۔ تاہم مذاکرات کی ناکامی کے بعد جب پولیس نے آپریشن شروع کیا تو عبداللہ محسود نے مذکورہ مہمان خانے میں ہی خود کو بم سے اڑا دیا۔ | اسی بارے میں طالبان کمانڈر عبداللہ محسود ہلاک 24 July, 2007 | پاکستان محسود کی میت وانا روانہ: اطلاعات24 July, 2007 | پاکستان عبداللہ حکام کی نظروں میں تھے25 July, 2007 | پاکستان محسود آْبائی گاؤں میں سپردِ خاک25 July, 2007 | پاکستان عبداللہ محسود ۔ میڈیا فرینڈلی کمانڈر 24 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||