ترنگزئی کے مزار پر قبضہ جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں جنگ آزادی کے ہیرو حاجی صاحب ترنگزئی کے مزار اور اس سے ملحق مسجد پر خود کو طالبان کہنے والے مسلح افراد کا قبضہ ابھی تک جاری ہے۔ دوسری طرف مسلح افراد کے کمانڈر نے علاقے کے ایک مقامی جرگہ کو مزار اور مسجد کا قبضہ دینے سے انکار کرتے ہوئے ان کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ حاجی ترنگزئی کے پوتے خوشحال باچا نے پشاور میں اخباری کانفرنس کے ذریعے طالبان کے اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے دادا ایسے نظریات کے آدمی نہیں تھے بلکہ انہوں نے مادر وطن کی آزادی کے لیے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی تھی۔ پاک افغان سرحد سے تقریباً بیس کلومیٹر کے فاصلے پر مرکزی مہمند اور باجوڑ شاہراہ کے قریب واقع ایک پہاڑی علاقے میں قائم حاجی صاحب ترنگزئی کے مزار اور اس سے ملحق مسجد کے احاطے میں اب داخل ہوتے ہی ہر طرف مسلح افراد دکھائی دیتے ہیں۔ مہمند باجوڑ شاہراہ پر ایک بورڈ بھی نصب کیا گیا ہے جس پر ’ لال مسجد‘ لکھا ہوا ہے، جبکہ مسجد کے باہر اور اندر بھی بڑے حروف میں لال رنگ سے ’لال مسجد ’ لکھ دیا گیا ہے۔ مسجد کے اندر جانے والوں کی کڑی تلاشی لی جاتی ہے۔ سنگ مرمر سے بنائے گئے حاجی صاحب ترنگزئی کے مزار اور مسجد کو مسلح افراد نے چاروں اطراف سےگھیرے میں لیا ہوا ہے۔ روایتی جہادی اور طالبان کے ’کیموفلاج‘ لباس کے علاوہ بعض مسلح افراد نے ٹراؤزر بھی پہنے ہوئے تھے۔
چہروں پر نقاب لگائے ہوئے یہ افراد راکٹ لانچرز اور دیگر بھاری اور چھوٹے ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ ان کے لب ولہجے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں اکثریت کا تعلق مہمند ایجنسی سے ہیں، تاہم ایک مسلح شخص اپنے ساتھیوں سے اردو بات کر رہا تھا اور اسے انگریزی بھی اچھی خاصی آتی تھی۔ مزار پر قابض زیادہ تر مسلح افراد اٹھارہ سے بیس سال کی عمر کے معلوم ہوتے ہیں، جبکہ بعض کی عمریں تو پندرہ سال سے بھی کم دکھائی دیتی ہیں۔ مسجد کے ہر کونے میں نظر انے والے جنگجوؤں اور ان کے کمانڈر عمر خالد کا رویہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ ’دوستانہ‘ تھا۔ عمر خالد نے صحافیوں کے تمام سوالوں کا جواب دیا۔ صحافیوں کے سوالات کے دوران ایک موقع پر انہوں نے کہا ’ اگر آپ لوگوں کو ذاتی طور پر ہمارا یہ عمل قبول نہیں تو ہم مسجد اور مزار چھوڑدینگے۔‘ ترنگزئی کے مزار پر قبضہ کرنے والے جنگوؤں کو دیکھنے کے لیے مقامی قبائیلیوں کی ایک بڑی تعداد صبح سے شام تک مسجد کے قریب موجود رہتی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حاجی صاحب ترنگزئی کے مزار پر طالبان کے قبضہ کے بعد وہاں لوگوں کا آنا جانا کم ہوگیا ہے۔ دوسری طرف مقامی طالبان نے صافی قوم کے ایک جرگہ کو مزار اور مسجد کا قبضہ دینے سے انکار کرتے ہوئے ان کے مطالبات ماننے سے انکار کیا ہے۔ چار قبیلوں پر مشتمل صافی مشران اور علماء کرام کے ایک جرگہ نے منگل کو مقامی جنگجوؤں سے چار گھنٹے تک مسجد میں مذاکرات کیے اور ان سے درخواست کی کہ وہ مسجد اور مزار کا قبضہ ختم کر کے اصل منتظمین کے حوالے کردیں۔ اس بات چیت کے دوران مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی موجود تھے۔ جنگجوؤں کے کمانڈر نے یہ کہہ کر قبضہ چھوڑنے سے انکار کر دیا کہ انہوں نے کوئی غیر اسلامی کام نہیں کیا۔
مہمند ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ ڈاکٹر کاظم نیاز نے امید ظاہر کی کہ مقامی جرگوں کی مدد سے مزار اور مسجد پر طالبان کا قبضہ پر امن طور پر ختم کرا لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ اس مسئلے کو علاقے کی روایات اور مقامی مشران کے تعاون سے حل کرایا جائے۔ اتوار کو مہمند ایجنسی کے علاقے غازی آباد میں ستر کے قریب مسلح طالبان نے جنگ آزادی کے ایک ہیرو حاجی صاحب ترنگزئی کے مزار اور اس سے ملحق مسجد پر قبضہ کر کے اس پر لال مسجد کا بورڈ لگا دیا تھا۔ جنگجوؤں کا کہنا تھا کہ وہ علاقے میں لڑکوں کے لیے مدرسہ قائم کرنا چاہتے ہیں جبکہ جامعہ حفصہ ام حسان کے نام سے لڑکیوں کےلیے بھی ایک مدرسہ قائم کرینگے۔ واضح رہے کہ مہمند ایجنسی میں پہلی دفعہ اپنے آپ کو مقامی طالبان کہلانے والا ایک گروہ منظر عام پر آیا ہے۔ حکومت کی جانب سے مہمند ایجنسی میں مسلح طالبان کے ساتھ صحافیوں کی آزادانہ ملاقاتوں پر کوئی پابندی نہ ہونا بھی پہلی دفعہ دیکھنے میں آیا ہے۔ |
اسی بارے میں باجوڑ: مقامی طالبان پھر سرگرم 05 May, 2007 | پاکستان ’آپریشن روک دیں ورنہ اعلانِ جہاد‘09 July, 2007 | پاکستان شمالی وزیرستان امن معاہدہ ختم15 July, 2007 | پاکستان ’حکومت مخالف کارروائی کا فیصلہ‘ 16 July, 2007 | پاکستان باجوڑ طالبان اور دکانداروں کامعاہدہ23 July, 2007 | پاکستان امریکی حملے کا جواب دینگے: طالبان25 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||