BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 July, 2007, 00:44 GMT 05:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی حملے کا جواب دینگے: طالبان

طالبان(فائل فوٹو)
وزیرستان میں نہ تو اسامہ بن لادن ہے اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کا کوئی باشندہ: طالبان رہنما
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کے ایک اہم کمانڈر مولانا عبد الخالق حقانی نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے وزیرستان پر حملہ کیا تو ’ مجاہدین کمانڈر‘ افغانستان کے اندر اور دیگر علاقوں میں حملے کر کے اس کا بھرپور جواب دینگے۔

پشاور میں منگل کی شام مولانا عبد الخالق کی طرف سے ذرائع ابلاغ کو فیکس کے ذریعے سے بھیجے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں ’ شہید‘ ہونے والے طلباء و طالبات کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔

طالبان رہنما کا کہنا ہے کہ ’اگر پورا یورپ امریکیوں کا بدلہ مسلمان سے لیتا ہے تو پھر ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ شہید بھائیوں کے خون کا بدلہ لے لیں‘۔

طالبان رہنما کا یہ بیان بظاہر اس امریکی بیان کے ردعمل میں سامنے آیا ہے جس میں امریکی حکام نے کہا ہے کہ القاعدہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں محفوظ پناگاہیں بنائی ہوئی ہیں جِن کو ختم کرنے کے لیے امریکی حکومت فوجی کارروائی پر غور کر سکتی ہے۔

بیان میں طالبان رہنما نے وضاحت کی ہے کہ وزیرستان میں نہ تو اسامہ بن لادن ہے اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کا کوئی باشندہ۔ بیان کے مطابق ’اگر امریکہ یا ان کی اتحادیوں نے وزیرستان پر حملہ کیا تو عام لوگوں سے لے کر مجاہدین کمانڈروں تک سب سر پر کفن باندھ کر افغانستان کے اندر اور ہر اس جگہ کو خون سے رنگ دینگے جہاں سے وزیرستان کے غریبوں کا خون بہایا گیا ہو‘۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان ان کا ملک ہے اور فوج اور ملیشیاء فورسز پر گولی چلانا ان کا مقصد نہیں لیکن اگر غیروں کی خاطر فوج ان پر حملہ کرتی ہے تو پھر انہیں مجبوراً جواب دینا پڑے گا۔

دریں اثناء جنوبی وزیرستان میں حکومت حامی طالبان کمانڈر ملا نذیر نے بھی اس بات کو دہرایا ہے کہ اگر امریکہ نے وزیرستان پر حملہ کیا تو اس کا بھرپور انداز میں جواب دیا جائے گا۔

منگل کو پشاور میں اخبارات کے دفاتر کو ٹیلی فون پر ریکارڈ کئے گئے ایک بیان میں ملا نذیر کے ترجمان نے کہا ہے کہ وزیرستان میں کوئی غیر ملکی موجود نہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکہ غیر ملکیوں کا بہانہ بنا کر وزیرستان پر حملہ کریگی تو یہ علاقے کے عوام کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد