طالبانائزیشن، مشرف کو انتباہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کو بتایا گیا ہے کہ اسلامی شدت پسند اور طالبان تیزی سے قبائلی علاقوں سے باہر پھیل رہے ہیں اور اگر فوری اور فیصلہ کن کارروائی نہ کی گئی تو بڑھتی ہوئی شدت پسندی باقی ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ امریکی روزنامے ’دی نیویارک ٹائمز‘ کی خبر کے مطابق یہ انتباہ پاکستان کی وزارت داخلہ کی ایک دستاویز کا موضوع ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سکیورٹی ایجنسیاں طالبان اور ان کے اتحادیوں کا مقابلہ نہیں کر پا رہیں اور اختیار انہیں سونپ چکی ہیں۔ اخبار کے مطابق پندرہ صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی مزاحمت کے پاکستان پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور طالبان کی طرف برداشت کی پالیسی سے ان کے حوصلے مزید بلند ہوئے ہیں۔ پاکستان کی سلامتی کونسل نے صدر مشرف کی موجودگی میں چار جون کو اس دستاویز پر غور کیا تھا۔ ایک مغربی سفارتکار کے مطابق بظاہر پاکستان میں سرکاری سطح پر تیار ہونے والی یہ پہلی دستاویز ہے جس میں باقاعدہ طور پر طالبان اور القاعدہ کے بڑھتے ہوئے خطرے کا اعتراف کیا گیا ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ شدت پسندوں کی طاقت کا اعتراف پاکستان پر امریکہ کے اس شدید دباؤ کا نتیجہ ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں لاقانونیت پر قابو پائے۔ واشنگٹن نےگزشتہ پانچ سال میں پاکستان میں ایک ارب ڈالر خرچ کیے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پاک افغان سرحد پر پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے بدلے میں دیے گئے ہیں۔ اس مالی اعانت کا بڑا مقصد پاک افغان سرحد کو طالبان اور القاعدہ کا گڑھ بننے سے روکنا ہے۔ لیکن اب وزارت داخلہ نے جنرل مشرف سے کہا ہے کہ شدت پسندوں ملک کے دوسرے علاقوں میں پھیل رہے ہیں اور پشاور، نوشہرہ اور کوہاٹ کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔ اس دستاویز کے ایک اہم محرک پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ اپریل میں چارسدہ میں ایک خودکش حملے میں بال بال بچے تھے۔ اخبار کے مطابق اس حملے نے شیرپاؤ کا صدر مشرف کی شدت پسندوں کی طرف اس پالیسی پر اعتماد ختم کر دیا تھا جس کے تحت ان کے ساتھ کئی امن معاہدے ہو چکے ہیں۔ صدر کی پالیسی کے مخالفین کہتے ہیں کہ شدت پسندوں نے اس خلاء کو پر کیا ہے جو قبائلی عمائدین کے پس منظر میں چلے جانے اور فوج کے بیرکوں میں واپس لوٹنے سے پیدا ہوا ہے۔ اس پالیسی پر امریکہ اور صدر کے اپنے کچھ حکام نے سوالات اٹھائے ہیں۔ پچھلے سال تک قبائلی علاقوں میں پالیسی کے ذمہ دار ایک اعلیٰ افسر بریگیڈیر محمود شاہ کا کہنا ہے کہ یہ صلح کی پالیسی تھی جو کامیاب نہیں ہوئی اور ایک سال میں طالبانائزیشن میں اضافہ ہوا ہے۔
دو ہفتے قبل اسلام آباد کے دورے کے دوران امریکی نائب وزیر خارجہ جان ڈی نیگروپونٹے نےقبائلی علاقوں میں امن معاہدوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی لاقانونیت کے بارے میں ایک سوال کا جواب دینے سےگریز کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ واشنگٹن سرحدی علاقوں میں تعینات فرنٹیئر کور کے لیے مزید سہولیات پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے سرحدی علاقوں کے بارے میں امریکہ کی تشویش کے ثبوت کے طور پر ساڑھے سات سو ملین ڈالر کے ترقیاتی پیکج کا ذکر کیا جو آئندہ چند سالوں میں استعمال کیا جائےگا۔ اخبار لکھتا ہے کہ جنرل مشرف نے سلامتی کونسل میں اٹھائے گئے اس مسئلے پر کوئی بیان نہیں دیا۔ وزارت داخلہ کے سیکرٹری کمال شاہ نے جمعرات کو کہا کہ حکومت نے علاقے میں حفاظتی انتظامات کی بہتری کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کی اکتیس نئی پلاٹونیں وہاں بھیجی گئی ہیں اور ان میں سے ہر ایک میں چالیس افسر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ فرنٹیئر پولیس اور فرنٹیئر کور کو جو پاک افغان سرحد کی نگرانی کرتی ہے بھی مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہ مقامی قبائیلیوں پر مشتمل امن کمیٹیاں تشکیل دی جا رہی ہیں تاکہ عوام کو اس کام میں ساتھ ملایا جا سکے۔
مغربی سفارتکار نے کہا کہ دستاویز میں کم معروف طالبان کے ناموں کے ذکر سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو طالبان کے بارے میں معلومات حاصل ہیں لیکن وہ ان کا کچھ کر نہیں سکتی یا کرنا نہیں چاہتی۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ طالبان نے حال ہی میں افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے خیبر کے راستے تیل لے جانے والے ٹرکوں پر حملے شروع کر دیے ہیں ۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایسے تین واقعات ہو چکے ہیں۔ پشاور کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہاں دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے ہیں جن میں مقامی پولیس پر حملے شامل ہیں۔ شدت پسندوں کی دھمکیوں کی وجہ سے کئی سکول بند کرنا پڑے۔ سرکاری دفاتر، سفارتکاروں کو اور فلاحی اداروں کو تواتر سے دھمکی آمیز خط ملتے رہے ہیں۔ سوات میں ایک امام مسجد نے بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکوں، عورتوں کی تعلیم اور خاتون کارکنوں کے خلاف فتوے دیے ہیں۔ دستاویز میں مقامی حکومتی اداروں کی بے بسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہر کارروائی کے جواب میں ’دہشت گردی‘ کی کارروائی یا خود کش حملہ ہوتا ہے۔ تشدد کے واقعات میں اضافے کے ثبوت کے طورپر وزارت داخلہ کی رپورٹ میں طالبان جنگجؤوں کی طرف سے ٹانک شہر میں بینک، سکول، پٹرول پمپ اور چوکیوں پر حملوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ حملے ایک طالبان کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ہوئے جو جہاد کے لیے طالب علموں کو بھرتی کر رہے تھے۔ دستاویز میں مقامی سکیورٹی ایجنسیوں کے لیے تجاویز پیش کی گئی ہیں کہ شدت پسندوں سے ’براہ راست‘ ٹکر لی جائے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کیسے ہوگا؟ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں کی طرف سے شروع کیے گئے ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کی نشریات روکی جائیں اور عوامی حمایت کے لیے ذرائع ابلاغ میں مہم شروع کی جائے۔ | اسی بارے میں سرحد: دو دھماکے، پانچ دکانیں تباہ11 September, 2006 | پاکستان طالبانائزیش کا عمل خطرہ ہے: درانی03 October, 2006 | پاکستان پاکستان پر بھی طالبان کے سائے06 March, 2007 | پاکستان ’طالبانائزیشن کا خوف ابھی ہے‘27 August, 2004 | پاکستان طالبانائزیشن کی پہنچ پشاور تک؟18 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||