BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 May, 2007, 17:00 GMT 22:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ: مقامی طالبان پھر سرگرم

باجوڑ
ڈیڑھ ماہ قبل باجوڑ میں معاہدے پر دستخط کیے گئے
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں اطلاعات کے مطابق حکومت کے ساتھ امن معاہدے کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد مبینہ مقامی طالبان علاقے میں پھر سے سرگرم ہوگئے ہیں اور سنیچر کو مسلح مقامی طالبان نے گاڑیوں کی تلاشی لینے کے دوران درجنوں کیسٹیں اور موبائل سیٹ قبضہ میں لے کر توڑ ڈالے۔

صدر مقام خار سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق تین گاڑیوں میں سوار تقریباً پچاس سے زیادہ نقاب پوش افراد تحصیل ماموند کے عنایت کلی میں کئی گھنٹے تک گشت کرتے رہے اور بعد میں وہاں موجودگاڑیوں کی تلاشی لینی شروع کردی۔

ایک عینی شاہد لطیف خان نے بتایا کہ ’ہم گاڑی میں عنایت کلی کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں تقریبا پچاس سے زیادہ نقاب پوش افراد نے ہمیں روکا اور ان میں سے ایک شخص نے گاڑی کے آگے کا دروازہ کھول کر ٹیپ ریکارڈر سے کیسٹ نکال لی اور اسے توڑڈالا۔ ان کے ساتھ راکٹ لانچر، دستی بم اور کلاشنکوفیں تھیں‘۔

ایک اور عینی شاہد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’مسلح افراد نے گاڑی روکنے کے بعداس میں سوار مسافروں پر نظردوڑائی اور جن لوگوں کی داڑھیاں نہیں تھیں انہیں متنبہہ کیا کہ وہ داڑھی رکھ لیں۔ میری داڑھی چھوٹی تھے سو انہوں نے مجھےداڑھی بڑھانے کو کہا‘۔

عینی شاہدوں کے مطابق مسلح نقاب پوشوں نے اس دوران کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں کیا البتہ لوگوں کو موسیقی نہ سننے اور داڑھیاں رکھنے کے لیے کہتے رہے۔

مقامی قبیلے سالارزئی کا جرگہ
 تاہم اطلاعات کے مطابق حکومت نے اتوار کو مقامی قبیلے سالارزئی کے مشران کا ایک جرگہ بلایا ہے تاکہ رونما ہونے والے تازہ واقعہ کا جائزہ لیا جاسکے

اس سلسلے میں باجوڑ کے حکام سے رابطے کی بہت کوشش کی گئی لیکن کامیاب نہیں ہوسکی۔ تاہم اطلاعات کے مطابق حکومت نے اتوار کو مقامی قبیلے سالارزئی کے مشران کا ایک جرگہ بلایا ہے تاکہ رونما ہونے والے تازہ واقعہ کا جائزہ لیا جاسکے۔

واضح رہے کہ جنوری دوہزار چھ میں باجوڑ کے گاؤں ڈمہ ڈولہ پر مبینہ امریکی حملے اور اکتوبر دو ہزار چھ میں چینگئی کے ایک مدرسے پر پاکستانی فوج کے فضائی حملے کے بعد باجوڑ میں مبینہ طور پر مقامی طالبان کی کارروائیاں بڑھ گئی تھیں تاہم رواں سال مارچ میں حکومت اور مقامی قبیلے سالارزئی کے درمیان امن معاہدہ ہوا جس میں قبائلیوں نے حکومت کو ضمانت دی تھی کہ غیر ملکیوں کو پناہ نہیں دی جائے گی اور مقامی طالبان اپنی کارروائیاں روک دیں گے۔اس معاہدے کے بعد گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران تشدد کا کوئی بھی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں
باجوڑ میں رات کا کرفیو
08 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد