BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 August, 2007, 17:00 GMT 22:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: تصادم میں ایک ہلاک

کراچی
تنظیموں میں تصادم جناح ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے باہر ایک پبلک کال آفس سے شروع ہوا
کراچی کے بڑے سرکاری جناح ہسپتال میں دوطلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم میں ایک طالبعلم ہلاک ہوگیا ہے جبکہ مشتعل افراد نے ہسپتال میں توڑپھوڑ کی اور دو پولیس موبائلوں کو نقصان پہنچایا۔

ایس پی او صدر ٹاؤن طاہر نوید کا کہنا ہے کہ تصادم اسلامی جمعیت طلبہ (آئی جے ٹی) اور پنجابی سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے درمیان ہوا جس میں جناح ہسپتال آئی جے ٹی کے ناظم عبدالرحمان چوٹیں لگنے سے ہلاک ہوگئے۔

طاہر نوید کے مطابق دونوں تنظیموں میں تصادم جناح ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے باہر ایک پبلک کال آفس سے شروع ہوا۔ پولیس کے پہنچنے تک حالات قابو سے باہر ہوچکے تھے۔ مشتعل افراد نے پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا جس سے پولیس کی دو موبائلوں اور ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کو نقصان پہنچا جبکہ پولیس کا ایک اہلکار زخمی ہوا۔

جناح ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ عبدالرحمان کی موت سینے پر ضرب آنے کے باعث ہوئی ہے۔

 عبدالرحمان کو پولیس کی موجودگی میں قتل کیا گیا ہے اور اس واقعہ کی ذمہ داری مخالف تنظیم کے ساتھ ساتھ پولیس پر بھی عائد ہوتی ہے۔ مقدمے میں متعلقہ تھانیدار کو بھی نامزد کیا جائے گا
نصراللہ شجیع

جماعتِ اسلامی کے ممبر صوبائی اسمبلی اور سندھ اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر نصراللہ شجیع کا کہنا تھا کہ عبدالرحمان کو پولیس کی موجودگی میں قتل کیا گیا ہے اور اس واقعہ کی ذمہ داری مخالف تنظیم کے ساتھ ساتھ پولیس پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مقدمے میں متعلقہ تھانیدار کو بھی نامزد کریں گے۔

واقعہ کے بعد مشتعل افراد نے جناح ہسپتال کے باہر پتھراؤ کیا اور رکاوٹیں کھڑی کر دیں جس کے نتیجے میں شاہراہِ فیصل اور اُس کے اطراف میں ٹریفک جام ہوگیا جس کے باعث جناح ہسپتال میں موجود مریضوں اور اُن کے ساتھ آنے والوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

حادثے میں زخمی ہونے والے ایک بچے کو جناح ہسپتال لانے والے فیصل نامی ایک نوجوان نے بتایا: ’فائرنگ اس قدر شدید تھی کہ ہم لوگ ایمرجنسی وارڈ میں محصور ہوگئے‘۔

ہلاک ہونے والے عبدالرحمان اسلامی جمعیت طلبہ (آئی جے ٹی) کے ناظم تھے جو جناح ہسپتال میں فزیوتھراپی کے طالبعلم تھے۔ ان کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر ملتان سے تھا۔

ممکنہ طلبہ تصادم کے پیش نظر پولیس کی جانب سے شہر بھر کے کالجوں اور طلبہ ہاسٹلز کے اطراف پولیس اور ریجنرز کی نفری تعینات کردی گئی ہے اور سیکورٹی کے سخت انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد