’کراچی:ہلاکتوں کا معاملہ سیاسی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے کراچی کی بارشوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پر اختلاف رائے ختم کرنے کے لیے جسٹس(ر) ناصر اسلم زاہد کی سربراہی میں کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا تھا مگر جسٹس زاہد نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کیا کہ اموات کا معاملہ اب سیاسی تنازعہ بن سکتا ہے۔ جسٹس ناصر اسلم زاہد نے کہا کہ ان سے پوچھا گیا تھا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ حکومت اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے دو دو ارکان صوبائی اسمبلی لے کر ان کے سامنے معاملہ رکھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں معاوضے کا سوال پیدا ہوتا ہے اور بالآخر یہ مسئلہ سیاسی روپ دھار لے گا اور ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ناصر اسلم زاہد نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اور بارشیں ہو سکتی ہیں اور اس معاملے میں وقت لگے گا۔ ایک سوال کے جواب میں کہ کیا موت کی وجوہات کا معاملہ ڈاکٹر سے حل نہیں کروانا چاہیے انہوں نے جواب دیا کہ انہیں کہا گیا تھا کہ وہ جسے چاہیں ساتھ رکھ لیں لیکن یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے سیاسی پہلو ابھر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کہا جائے کہ اموات کم ہوئی ہیں تو اس کا مطلب ہے انتظامات اچھے تھے اور اگر زیادہ ہو گئیں ہیں حکومت کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو چھپن کا ایک انکوائریز ایکٹ ہے جس میں صوبائی اور وفاقی قوانین دونوں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت کو کسی معاملے کی انکوائری کروانی ہوتی ہے تو کسی کو یہ ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے جیسے مرتضی بھٹو کیس میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بارشوں کے معاملے میں تو لوگ دفن بھی ہو چکے ہوں گے اور اس کام میں وقت لگے گا۔ |
اسی بارے میں کراچی: بارش سے سینکڑوں ہلاک24 June, 2007 | پاکستان کراچی: سینکڑوں گھر تباہ، بجلی پانی بند25 June, 2007 | پاکستان طوفان کےبعد زندگی معمول کی طرف25 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: بارشوں کا سلسلہ شروع25 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||