کراچی: ماہی گیروں کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں ماہی گیروں کی قدیم بستی ابراہیم حیدری میں دو ماہی گیر نوجوانوں کی مبینہ گرفتاری کے خلاف منگل کو ہڑتال ہوئی اور ماہی گیروں نے احتجاجی جلوس نکالا۔ ابراہیم حیدری کراچی میں مچھیروں کی سب سے بڑی بستی ہے، علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ 28 جولائی کی شب دو ماہی گیر نوجوان ادریس ولد حاجی تاجو اور عمران والد محمد کشتی میں سوئے ہوئے تھے کہ قانون نافذ کرنے والے ایک ادارے کے اہلکار انہیں اٹھاکر لے گئے جس کے بعد سے ان کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ ہڑتال کی وجہ سے علاقے میں د کانیں بند رہیں جبکہ ماہی گیروں نے احتجاجاً اپنی کشتیاں ساحل پر کھڑی کردیں اور ان پر سیاہ جھنڈے لہرائے۔ واقعے کے خلاف علاقے میں ایک بڑا احتجاجی جلوس بھی نکالا گیا جس میں خواتین کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ماہی گیروں کی تنظیم پاکستان فشرفوک فورم کے رہنما محمد علی شاہ نے کہا کہ اس واقعے کے بعد ماہی گیروں میں خوف و ہراس ہے کیونکہ رات کو اپنے سامان کی حفاظت کے لیے کشتیوں میں سونا ان کا معمول
مظاہرین نے حکام کو خبردار کیا کہ دونوں نوجوانوں کو آئندہ چوبیس گھنٹوں میں رہا نہ کیا گیا تو سینکڑوں مچھیرے اپنے اہل خانہ کے ساتھ بدھ کو کورنگی روڈ پر دھرنا دیں گے اور اگر اس کے بعد بھی نوجوانوں کو رہا نہ کیا گیا تو وہ صوبے کے گورنر اور وزیر اعلی کے رہائش گاہوں کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ | اسی بارے میں 265 بھارتی ماہی گیر رہا06 January, 2005 | پاکستان کراچی: 529 بھارتی ماہی گیر رہا 21 March, 2005 | پاکستان مچھلی کشی: ماہی گیروں کااحتجاج31 August, 2005 | پاکستان پاکستان: 371 بھارتی ماہی گیر واپس 10 September, 2005 | پاکستان چھتیس غیرملکی ماہی گیر گرفتار30 March, 2006 | پاکستان بھارتی ماہی گیروں کی رہائی29 May, 2006 | پاکستان رہا کیے گئے ماہی گیر بھارت واپس30 May, 2006 | پاکستان حکومت کی تلخیوں کا شکار ماہی گیر20 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||