چھتیس غیرملکی ماہی گیر گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سمندری حدود میں مچھلی کا غیر قانونی شکار کرنے کے الزام میں حکام نے چھتیس غیرملکی ماہی گیروں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے مطابق تائیوانی ٹرالر کو اس وقت قبضے میں لیا گیا جب وہ پاکستانی حدود کی خلاف ورزری کرتے ہوئے سولہ کلومیٹر اندر غیر قانونی طریقے سے مچھلی کا شکار کر رہا تھا۔ حکام کے مطابق تائیوان کا یہ ٹرالر اٹلی میں سسلی کی پورٹ وکٹوریہ پر رجسٹرڈ ہے اور اس کو ایرانی حکام نے اپنی حدود میں مچھلیاں پکڑنے کا لائیسنس جاری کیا تھا۔ ٹرالر پر عملے کے چھتیس افراد سوار تھے جن میں سے پانچ کا چین،چھ کا انڈونیشیا، تین کا تائیوان اور بائیس کا فلپائن سے تعلق ہے ۔ میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے مطابق ٹرالر پر ایسے تمام ضروری آلات نصب تھے جن کے ذریعے ٹرالر کو مقررہ ایرانی حدود میں ہی رہنا چاہیے تھا۔ حکام نے بتایا کہ میری ٹائیم سیکیورٹی ایجنسی کے جہاز وحدت نے ٹرالر کے عملے کو وارننگ بھی دی تھی مگر انہوں نے اس کو نظر انداز کیا جس کے بعد کارروائی کی گئی۔ حراست میں لیے گئے افراد کو ٹرالر سمیت جمعرات کو کراچی لایا گیا ہے۔جہاں اسے ڈاکس پولیس کے حوالے کیا جائیگا۔ واضح رہے کہ میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے اس برس پہلی مرتبہ بھارت کے علاوہ کسی دوسرے ملک کے ماہی گیروں کو پاکستانی سمندری حدود میں غیرقانونی داخلے پر حراست میں لیا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس ستمبر اکتوبر میں حکام نے بھارتی لائسنس پر پاکستانی حدود میں شکار کرنے والے دو چینی ٹرالروں کو عملے سمیت پکڑ لیا تھا۔ بعد میں ان لوگوں کو چینی وزیراعظم کے دورۂ پاکستان میں خیرسگالی کے طور پر رہا کردیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی اس برس اب تک آٹھ سو کے لگ بھگ بھارتی ماہی گیروں کو بھی پاکستانی حدود میں غیرقانونی شکار پر حراست میں لے چکی ہے۔ | اسی بارے میں 265 بھارتی ماہی گیر رہا06 January, 2005 | پاکستان پاکستان میں 182 بھارتی قید02 February, 2005 | پاکستان کراچی: 529 بھارتی ماہی گیر رہا 21 March, 2005 | پاکستان ڈیرہ سو پاکستانی مچھیرے رہا19 April, 2005 | پاکستان مچھلی کشی: ماہی گیروں کااحتجاج31 August, 2005 | پاکستان پاکستان: 371 بھارتی ماہی گیر واپس 10 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||