مچھلی کشی: ماہی گیروں کااحتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کی سمندری حدود میں تنگ اور تار کے جال کے استعمال اور مچھلی کی نسل کشی کے خلاف ماہی گیروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ کراچی پریس کلب کے سامنے بدھ کو احتجاج کرنے والے مظاہرین میں بزرگ، خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ جو وائرنیٹ، بولوگجو جال کے استعمال کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ساحلی علاقوں سے تین بسوں میں سوار ہوکر آنے والے ان ماہی گیروں کو خدا گنج شاد، ایوب خاصخیلی اور طاہرہ علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی ساحلی پٹی کے سمندر میں ممنوعہ جال کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے مچھلی کی نسل کشی ہورہی ہے اور اس کے نتیجے میں وہ چھوٹے ماہی گیر جو کناروں پر مچھلی پکڑ کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں بیروزگاری کا شکارہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’سندھ اسمبلی میں ایسے جال استعمال کرنے کو ممنوعہ قرار دیا جا چکا ہے اور اس بارے میں قانون سازی بھی ہو چکی ہے۔ لیکن محکمہ فشریز کے افسران بلوگجو اور وائر نیٹ مافیا سے لین دین اور سازباز کرکے مچھلی کی نسل کشی کروا رہے ہیں‘۔ پاکستان فشر فوک فورم کے رہنما سامی میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ سندھ کے ساحلی علاقے میں بلوچستان تک ڈیڑھ سو سے زائد گاؤں کے چالیس ہزار سے زائد لوگوں کی گزر بسر ماہی گیری پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں بااثر لوگوں نے پانچ ہزار سے زائد وائر نیٹ لگا دیے ہیں جس سے ایک طرف مچھلی کی نسل کشی ہورہی ہے تو دوسری طرف ساحلوں پر ماہی گیری کرنے والے لوگ بیروزگار ہورہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||