پاکستان: 371 بھارتی ماہی گیر واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سمندری حدود کی خلاف ورزی پرگرفتار کیے جانے والے والے تین سو اکہتر بھارتی ماہی گیروں کو بھارت کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔ ان ماہی گیروں کو گزشتہ ایک سال کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ جو کراچی کی سینٹرل اور لانڈھی جیل میں قید تھے۔ سنیچر کی شب ان کو کراچی کے کینٹ ریلوے اسٹیشن سے خیبر میل ٹرین کے ذریعے لاہور روانا کیا گیا۔ بھارتی ماہی گیروں کو الوداع کرنے آنے والے آئی جی جیلز سندھ ایاز مغنی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان قیدیوں کو اتوار کو لاہور کے کوٹ لکھپت جیل میں رکھا جائیگا۔ جبکہ پیر کو ان کو واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارت روانہ کیا جائیگا۔ قیدیوں کی ٹکٹوں اور کھانے پینے کا انتظام ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے کیا گیا تھا۔ ان کا تعلق گجرات، بہار اور تامل ناڈو سے ہے۔ کورٹ پولیس کا ایک دستہ ان کو لاہور پہنچائے گا۔ بھارتی ماہی گیروں عثمان، جیوا بھائی، نارائن، موہن، کالو، رمن اور ویرو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مچھلی کا شکار کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کی حدود کا پتہ ہی نہیں چلتا ہے۔ پانی میں کب پاکستان کی حدود میں داخل ہوگئے ہیں جب پکڑے جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ ان کی لانچیں بھی پکڑی گئی تھیں۔ جن میں سے ہر ایک کی مالیت پندرہ لاکھ روپے تک ہے مگر پاکستانی حکام نے وہ واپس نہیں کی ہیں۔ جبکہ دیگر سامان واپس لوٹ دیا ہے۔ اپنی آزادی پر انتہائی خوش نظر آنے والے ان بھارتی ماہی گیروں نے کہا کہ پاکستانیوں کا سلوک اچھا تھا۔ جیل تو جیل ہوتا ہے۔ کھانا وقت پر ملتا تھا مگر وہ اتنا اچھا نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جیل سے انہوں نے رشتہ داروں کے لیے کئی خط لکھے مگر ان میں سے کوئی بھی ان کو نہیں مل سکا پولیس والے کہتے تھے کہ آپ کا خط بھیج دیا ہے۔ مگر وہ پھاڑ کر پھینک دیتے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||