BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 November, 2006, 18:36 GMT 23:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت کی تلخیوں کا شکار ماہی گیر

ماہی گیر
بھارت اورپاکستان کے درمیان تلخیوں کے سبب ہزاروں ماہی گیر جیلوں میں قید ہیں۔
پوری دنیا میں اکیس نومبر کو ماہی گیروں کا دن منایا جارہا ہے مگر اس وقت پاکستان اور بھارت کی جیلوں میں چھ سو کےقریب ایسے ماہی گیر قید ہیں، جو سمندری حدود کی واضح حد بندی نہ ہونے کے سبب ایک دوسرے کے ملک میں داخل ہوگئے تھے اور گرفتار کر لئےگئے۔

ہر سال ماہی گیروں کی ایک بڑی تعداد فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوتی ہے مگر ابھی تک دونوں ملک اس کے لیئے کوئی جامع منصوبہ بندی نہیں کرسکے ہیں۔ تاہم وقفہ وقفہ سے کچھ ماہی گیر رہا کردیئے جاتے ہیں لیکن بہت سے طویل عرصے سے بھارت میں قید ہیں۔

کراچی کی ماہی گیر بستی میں رہنے والی مائی آسی کے پانچ بیٹے گزشتہ تیرہ برسوں سے بھارتی جیل میں قید ہیں۔ ان کی آخری خواہش ہے کہ وہ اپنے بیٹوں سے مل سکیں۔

وہ کہتی ہیں کہ بچوں کی یاد میں آنسو بہا بہا کر ان کی آنکھوں کی بینائی ختم ہوگئی ہے اور وہ بیمار ہوگئی ہیں۔

ان کے مطابق وہ حکومت سے اپیل کرتی رہی ہیں کہ ان کے بچے بھارت سے بلوائے جائیں مگر حکومت ان کی بات نہیں سن رہی ہے۔ ' اب اللہ سے درخواست کی ہے کہ وہ تو ان کی بات سنےگا۔'

کسمپرسی کی زندگی گزارنے والی مائی آسی کا کہنا ہے کہ حکومت انہیں انصاف فراہم کرے اور کم از کم پاسپورٹ بناکر دیئے جائیں تاکہ وہ بھارت جاکر اپنے بیٹوں آچار، صدیق، وسایو، حنیف اور حسین سے مل سکیں۔

 کراچی کی ماہی گیر بستی میں رہنے والی مائی آسی کے پانچ بیٹےگزشتہ تیرہ برسوں سے بھارتی جیل میں قید ہیں۔ان کی آخری خواہش ہے کہ وہ اپنے بیٹوں سے مل سکیں۔ بچوں کی یاد میں آنسو بہانے سے انکی آنکھوں کی بینائی ختم ہوگئی ہے اور وہ بیمار ہوگئی ہیں۔

ماہی گیروں کے رہنما محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی تلخیوں کا شکار دونوں ممالک کے ماہی گیر ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ماہی گیروں سے دونوں ممالک کا رویہ ایسا ہوتا ہے جیسے یہ جنگی قیدی ہوں۔

یہ غریب ماہی گیر روزی کی تلاش میں جاتے ہیں۔ یہ کسی ملک دشمن سرگرمی میں ملوث ہیں نہ اسمگلنگ میں۔

جیل میں قید ماہی گیر محمد حسین کی بیوی سکینہ نے بتایا کہ ان کے شوہر تیرہ سال قبل چوھڑ جمالی سے مچھلی کے شکار کے لیئے گئے تھے۔ وہ ماہیگیر ہیں ان کے پاس کوئی منشیات نہیں تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر کا کچھ روز قبل خط آیا تھا جس میں انہوں لکھا ہے کہ حکومت سے مدد لی جائے اور جب تک حکومت کوشش نہیں کریگی وہ رہا نہیں ہوسکیں گے۔

ماہی گیر رہنما محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سمندری قوانین کے تحت اگر کوئی ماہی گیر کسی ملک کی حد میں داخل ہوجاتا ہے تو اسے گرفتار نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لیئے دونوں ملکوں کے حکام ان پر پاسپورٹ ایکٹ یا کسی اور جرم کا الزام عائد کرتے ہیں۔

دونوں ممالک میں ان ماہی گیروں پر مقدمات بھی چلائے جاتے ہیں اور سزائیں بھی ملتی ہیں۔ مگر ان کی رہائی اس وقت ہو پاتی جب دونوں ملک کوئی معاہدہ کرتے ہیں اور ماہی گیروں کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔

دونوں ممالک کو دیگر معاملات کے ساتھ اس مسئلہ کے حل کے لئے بھی کوئی طریقہ وضع کرنا چاہئے تاکہ ماہی گیروں کی گرفتاری کے بعد وہ جلد وطن واپس آسکیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد