کراچی: طلبہ تصادم، مزید ایک ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے سب سے بڑے سرکاری ہپستال جناح پوسٹ گریجویٹ ہسپتال میں سنیچر کی صبح دو طلبہ تنظیموں میں تصادم میں ایک طالب علم ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔ ڈی آئی جی پولیس جاوید بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلامی جمعیت طلبہ اور پنجابی سٹوڈ نٹس ایسوسی ایشن کے کارکنوں میں جھگڑا ہوا، جس میں ایک طالب علم فرحان بٹ ہلاک اور تین سردار واجد، جاوید اقبال اور احمد علی زخمی ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں گروہوں میں گزشتہ کچھ عرصے سے کشیدگی جاری تھی اور دس روز قبل جمعیت طلبہ کے ناظم عبدالرحمان بھی ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والے چوبیس سالہ طالب علم فرحان بٹ کا تعلق جہلم سے ہے وہ اسکول آف فزیو تھراپی میں زیر تعلیم تھے۔ واقعے کے بعد جناح ہسپتال میں کشیدگی پیدا ہوگئی اور تمام میڈیکل اسٹور، دکانیں اور ہوٹل بند ہوگئے۔ جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی محمد حسین محنتی کا کہنا تھا کہ دس روز قبل پیش آنے والے واقعے کے بعد پولیس کو آنکھیں کھولنی چاہئیں تھیں کیونکہ عبدالرحمان کو بھی پولیس کی موجودگی میں ہلاک کیا گیا تھا اور فرحان کو بھی پولیس کے سامنے قتل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی سے بات ہوئی تھی۔ ان کے بقول پولیس سربراہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ کچھ نہیں ہوگا اور وہ ٹی پی او کو کالج بھیج رہے ہیں مگر یہ حملہ ٹاؤن پولیس افسر کی موجودگی میں ہوا ہے۔
محمد حسین محنتی نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت ملزمان کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ طالبعلم کی ہلاکت کے بعد مشتعل کارکنوں نے پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پتھراؤ کیا، جس کے بعد رینجرز نے ہوائی فائرنگ کی۔ ادھر ہسپتال میں کشیدگی کی وجہ سے مریض اور ان کے رشتہ داروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ایمرجنسی وارڈ کے مریضوں کو دیگر وارڈوں میں منتقل کرنا پڑا۔ وارڈ کی ڈپٹی رجسٹرار ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ خوف و ہراس کی فضا چھائی ہوئی ہے، عملہ موجود ہے مگر ہم کچھ کر نہیں پا رہے ہیں۔ رینجرز اہلکاروں نے شاہراہ فیصل سے جناح ہسپتال آنے والی سڑک کو بند کردیا ہے۔ اسی سڑک پر امراض قلب، بچوں کا ہسپتال اور کڈنی سینٹر ہسپتال ہے جہاں آنے اور جانے والے مریضوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ واضح رہے کہ دس روز قبل بھی انہیں دونوں گروہوں میں تصادم کی وجہ سے جناح ہسپتال کالج اور ذیلی سکول بند کردیے گئے تھے اور بیرونی مریضوں کا شعبہ یا او پی ڈی تقریباً تین روز بند رہی تھی۔ | اسی بارے میں کراچی: تصادم میں ایک ہلاک15 August, 2007 | پاکستان کراچی تشدد کے واقعات تین ہلاک15 August, 2007 | پاکستان الرشید ٹرسٹ پر پابندی طلبہ کا احتجاج03 May, 2007 | پاکستان لاہور: جمعیت طلبہ کے خلاف مظاہرہ17 April, 2007 | پاکستان ’مدارس دہشت گردی کے مراکز نہیں‘ 02 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||