BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 September, 2007, 14:24 GMT 19:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی:بس پر فائرنگ، 7 ہلاک

بس پر فائرنگ کا واقعہ گلشنِ اقبال کے علاقے میں شام کے وقت پیش آیا
کراچی میں جمعرات کو ایک مسافر بس پر نامعلوم مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

واقعہ شام کے وقت گلشن اقبال کے علاقے یونیورسٹی روڈ پر جامعہ کراچی کے قریب پیش آیا۔

ہلاک شدگان کی لاشوں اور زخمیوں کو ایدھی ویلفئر ٹرسٹ کے اہلکاروں نے ہسپتال منتقل کیا جہاں بعض کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

حملے کا نشانہ بننے والے مسافر اور یونیورسٹی کے طلبہ تھے جو لوکل روٹ پر چلنے والی بس جی سیون میں سوار تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق یونیورسٹی روڈ پر سٹاپ پر رکنے کے بعد جونہی یہ بس چلی تو اس پر حملہ کیا گیا۔

کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی کا کہنا ہے کہ مسلح افراد تین موٹر سائیکلوں پر سوار تھے جنہوں نے پہلے بس پر گرنیڈ پھینکا اور اس کے بعد اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اب تک سات افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ کچھ افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو ایدھی ویلفیئر ٹرسٹ کے اہلکاروں نے جناح اور لیاقت نیشنل ہسپتال منتقل کیا ہے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

ایدھی ویلفئر ٹرسٹ کے اہلکار فیصل ایدھی نے بتایا کہ انہوں نے واقعے میں ہلاک ہونے والے آٹھ افراد کی لاشیں لیاقت نیشنل ہسپتال پہنچائی ہیں جبکہ چار زخمیوں کو بھی ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔ ’حملے سے متاثر ہونے والے زیادہ تر افراد طلبہ لگ رہے ہیں صرف ایک یا دو عمر رسیدہ لگ رہے ہیں باقی سب ینگ (جوان) ہیں‘۔

ڈاکٹروں کے مطابق اب تک تین افراد کی شناخت ہوئی ہے جن میں صدیق، عمران اور عاطف بٹ نامی افراد شامل ہیں، جن کا تعلق جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے بتایا جاتا ہے۔

مسلح افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی کا کہنا ہے کہ ابھی یہ تفتیش کا بہت ابتدائی مرحلہ ہے اور فی الوقت اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جاسکتی کہ واقعے کے اصل محرکات کیا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تفتیش کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ یہ کوئی دہشتگردی کی کارروائی ہے یا ٹارگٹ کلنگ ہے۔

واضح رہے کہ بہت طویل عرصے بعد کراچی شہر میں اس طرح کا واقعہ پیش آیا ہے کہ عام دنوں میں اس طرح کسی مسافر بس پر حملہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس سے قبل بارہ مئی کو چیف جسٹس آف پاکستان کی آمد کے موقع پر کراچی میں سیاسی جماعتوں کے جلوسوں میں شامل لوگوں اور گاڑیوں پر فائرنگ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں چالیس سے زائد اموات واقع ہوئی تھیں لیکن اس سے پہلے اس طرح کے واقعات نوے کے عشرے میں شہر میں بہت عام تھے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک روز قبل ہی کراچی یونیورسٹی میں حکمران اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومینٹ کی ذیلی تنظیم اے پی ایم ایس او اور جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا تھا جس میں کچھ طلبہ زخمی بھی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد دونوں تنظیموں نے ایک دوسرے پر تشدد کے الزامات عائد کیے تھے۔ اس واقعے کے بعد یونیورسٹی میں کشیدگی تھی۔

حملے کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور پولیس اور رینجرز نے واقعہ کی جگہ کا محاصرہ کرلیا ہے۔ دریں اثناء اسلامی جمعیت طلبہ کے درجنوں کارکنان لیاقت نیشنل ہسپتال پہنچ گئے جن میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے۔

اظہر فاروقی کا کہنا ہے کہ ’فوری طور پر کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی کیونکہ حملہ آور تو فرار ہوگئے تھے۔ تفتیش شروع ہونے کے بعد ہی گرفتاریاں کی جائیں گی‘۔

واقعے کے بعد کراچی یونیورسٹی دو دن کے لیے بند کردی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد