BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 September, 2007, 11:15 GMT 16:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی میں زخمی وکیل چل بسا

وکلا احتجاج
کراچی بار ایسوسی ایشن نے اس قتل کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا ہے اور اتوار کو سوگ اعلان کیا ہے
کراچی کے علاقے لانڈھی میں جمعرات کو ایک مسلح حملہ میں زخمی ہونے والے سینئر وکیل عتیق قادری اتوار کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئے ۔ وکلاء نے سوگ میں پیر کو عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

پچاس سالہ عتیق قادری ایڈووکیٹ جمعرات کی شب نماز تراویح کے بعد لانڈھی نمبر چار میں اپنے گھر داخل ہورہے تھے کہ چند نامعلوم مسلح افراد نے ان کو دروازے پر بلا کر گولیاں ماریں اور فرار ہوگئےتھے۔

انہیں شدید زخمی حالت میں ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ تین دن تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد اتوار کو فوت ہوگئے، انہیں ریڑھی گوٹھ قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا، عتیق قادری کا شمار کراچی بار کے سینئر وکلاء میں ہوتا تھا وہ گذشتہ بیس برس سے قانون کی پریکٹس کررہے تھے۔

پولیس کے مطابق گولیوں کے خول اور واقعاتی شواہد جمع کرلیےگئے ہیں تاہم اب تک ملزمان کا سراغ ملنے میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی ہے۔

کراچی بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل نعیم قریشی نے اس قتل کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا ہے اور پیر کو سوگ اعلان کیا ہے جس کے دوران پانچوں اضلاع میں سٹی کورٹس اور سیشن عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جائےگا۔

ایک ماہ میں دو حملے
 پچاس سالہ عتیق قادری ایڈووکیٹ جمعرات کی شب نماز تراویح کے بعد لانڈھی نمبر چار میں اپنے گھر داخل ہورہے تھے کہ چند نامعلوم مسلح افراد نے ان کو دروازے پر بلا کر گولیاں ماریں اور فرار ہوگئےتھے۔

رواں ماہ میں کسی وکیل پر یہ دوسرا مسلح حملہ ہے، اس سے قبل دس ستمبر کو سینئر وکیل راجہ ریاض کو عدالت جاتے ہوئے گورنرہاؤس سے چند گز کے فاصلے پرگولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ کراچی بار ایسوسی ایشن نے وکلاء کو دہشت گردی کا نشانہ بنائے جانے کے خلاف اور پولیس تفتیش پر عدم اطمینان کے اظہار کے بعد سنیچر کے روز چیف سیکریٹری سندھ کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور جمعہ کو عدالتوں کا بائیکاٹ بھی کیا تھا۔ تاہم تفتیش پر راجہ ریاض کے ورثاء کے اطمینان کی بناء پر احتجاج کو ایک ہفتہ کے لئے مؤخر کیا گیا تھا۔

اب ایک اور سینئر وکیل کی موت کے بعد کراچی بار نے اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے اتوار کو جنرل باڈی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ نعیم قریشی نے بتایا کہ وکلاء کے اجلاس میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
پنجاب میں وکلاء کی ہڑتال
15 January, 2007 | پاکستان
ایک اور وکیل پر حملہ، احتجاج
14 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد