مختلف شہروں میں وکلاء کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر کو کراچی میں قانون دان راجہ ریاض کے قتل اور سندھ ہائی کورٹ میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کے اجتماع کے علاوہ نواز شریف کی جبری جلا وطنی کے خلاف مختلف شہروں میں وکلاء نے احتجاج کیا ہے۔ کراچی: بار ایسوسی ایشنز کے اجلاسوں میں گزشتہ روز کراچی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق نائب صدر اور معروف قانون دان راجہ ریاض کے قتل اور بارہ مئی کے واقعات سے متعلق آئینی درخواستوں کی سماعت کے موقع پر ہائی کورٹ کے احاطے اور اطراف سینکڑوں ایم کیو ایم کے حامیوں کے اجتماع کی مذمت کی گئی اور ان واقعات کو عدلیہ اور وکلاء کو دھمکانے اور ان پر دباؤ ڈالنے کی سرکاری کوششیں قرار دیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وکلاء عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہر اقدام کی بھرپور مزاحمت کریں گے۔ وکلاء نے حکومت کو خبردار کیا کہ راجہ ریاض کے قاتلوں کو آئندہ 72 گھنٹوں میں گرفتار کیا جائے بصورت دیگر سنیچر کو سٹی کورٹس سے وکلاء احتجاجی جلوس نکالیں گے اور چیف سیکریٹری کے دفتر کا گھیراؤ کریں گے۔
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری نعیم قریشی نے بتایا کہ بار کی درخواست پر صوبائی سیکریٹری داخلہ نے 100 وکلاء کو اسلحہ لائسنس کے اجراء کی منظوری دے دی ہے اور امید ہے کہ وہ مزید دو سو وکلاء کو بھی لائسنس جاری کریں گے تاکہ وکلاء اپنا دفاع خود کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ راجہ ریاض کے قتل کے خلاف وکلاء بدھ کو بھی عدالتوں کا بائیکاٹ کریں گے۔ سندھ بار کونسل کے رکن صلاح الدین گنڈاپور نے بتایا کہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا ایک وفد چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے ملاقات کرے گا اور اٹھارہ ستمبر کو بارہ مئی کے واقعات سے متعلق آئینی درخواستوں کی آئندہ سماعت کے موقع پر عدالت اور وکلاء کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تجاویز پیش کرے گا۔ وکلاء نے نواز شریف کو جلا وطن کرنے کے حکومتی اقدام کی بھی بھرپور مذمت کی اور انہوں نے اسے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اسلام آباد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کا دس رکنی بینچ اپنی معمول کی عدالتی کارروائی کررہا تھا کہ سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء حامد علی خان اور علی احمد کُرد عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے اُن واقعات کے بارے میں بتایا جن کی وجہ سے وکلاء برادری نے ہڑتال کی ہے اور وہ عدالت میں پیش نہیں ہوں گے جس پر عدالت نے مقدمات کی سماعت ملتوی کردی۔ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ اور اسلام آباد اور راولپنڈی کی مقامی عدالتوں میں بھی آج ہڑتال رہی اور وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جس کی وجہ سے مقدمات کی پیروی کے سلسلے میں آئے ہوئے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ پشاور: پشاور میں وکلاء تنظیموں، پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ، ڈسٹرکٹ بار اسوسی ایشن اور پشاور بارکونسل کی اپیل پر تمام عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا۔ اس سلسلے میں پشاور ہائی کورٹ سے سورے پل تک ایک مظاہرے کا بھی اہتمام کیا گیا جس کی قیادت بار کے صدر عبد الطیف آفریدی ایڈوکیٹ نے کی۔ مظاہرین نے اس موقع پر ’ گو مشرف گو’ اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف نعرہ بازی کی۔ اس سے قبل پشاور ہائی کورٹ کے بار روم میں تمام وکلاء تنظیموں کا ایک جنرل باڈی اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں دیگر وکلاء کے علاوہ سینئر قانون دانوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کراچی میں گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ کا مبینہ گھیراؤ، ایک وکیل کے نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں قتل اور نوازشریف کی دوبارہ جلاوطنی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ وکیل رہنماؤں نے اس بات پر سخت افسوس کا اظہار کیا کہ ’پیر کو سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں ایم کیو ایم کے کارکنوں نے عدالت کے دروازے پر کئی گھنٹے تک قبضہ کیے رکھا اور عدالتی کارروائی میں مداخلت کی کوشش کی گئی۔‘ پشاور ہائی کورٹ بار اسوسی ایشن کے صدر عبد الطیف آفریدی ایڈوکیٹ نے یہ بھی کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف انہیں اس بات پر مجبور نہ کریں کہ وہ کراچی کے پشتونوں کو سندھ ہائی کورٹ کے حفاظت کے لیے بھیجیں۔ کوئٹہ انھوں نے کراچی میں سندھ ہائی کورٹ کے احاطے میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کی مداخلت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ | اسی بارے میں بارہ مئی: ’سندھ ہائی کورٹ کا گھیراؤ‘10 September, 2007 | پاکستان کراچی میں ہنگامے، چونتیس ہلاک12 May, 2007 | پاکستان ہنگاموں کی کوریج، ’آج‘ پر فائرنگ12 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||