BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 September, 2007, 13:01 GMT 18:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مختلف شہروں میں وکلاء کا احتجاج
فائل فوٹو
ملک بھر کی وکلاء تنظیموں نے احتجاج میں حصہ لیا (فائل فوٹو)
پیر کو کراچی میں قانون دان راجہ ریاض کے قتل اور سندھ ہائی کورٹ میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کے اجتماع کے علاوہ نواز شریف کی جبری جلا وطنی کے خلاف مختلف شہروں میں وکلاء نے احتجاج کیا ہے۔

کراچی:
بی بی سی کے احمد رضا نے بتایا ہے کہ کراچی میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کے علحیدہ علحیدہ جنرل باڈی اجلاس ہوئے جن میں وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

 وکلاء نے حکومت کو خبردار کیا کہ راجہ ریاض کے قاتلوں کو آئندہ 72 گھنٹوں میں گرفتار کیا جائے بصورت دیگر سنیچر کو سٹی کورٹس سے وکلاء احتجاجی جلوس نکالیں گے اور چیف سیکریٹری کے دفتر کا گھیراؤ کریں گے۔

بار ایسوسی ایشنز کے اجلاسوں میں گزشتہ روز کراچی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق نائب صدر اور معروف قانون دان راجہ ریاض کے قتل اور بارہ مئی کے واقعات سے متعلق آئینی درخواستوں کی سماعت کے موقع پر ہائی کورٹ کے احاطے اور اطراف سینکڑوں ایم کیو ایم کے حامیوں کے اجتماع کی مذمت کی گئی اور ان واقعات کو عدلیہ اور وکلاء کو دھمکانے اور ان پر دباؤ ڈالنے کی سرکاری کوششیں قرار دیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وکلاء عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہر اقدام کی بھرپور مزاحمت کریں گے۔

وکلاء نے حکومت کو خبردار کیا کہ راجہ ریاض کے قاتلوں کو آئندہ 72 گھنٹوں میں گرفتار کیا جائے بصورت دیگر سنیچر کو سٹی کورٹس سے وکلاء احتجاجی جلوس نکالیں گے اور چیف سیکریٹری کے دفتر کا گھیراؤ کریں گے۔

وکلاء نے اپنے احتجاج میں غم و غصہ کا اظہار کیا ہے (فائل فوٹو)

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری نعیم قریشی نے بتایا کہ بار کی درخواست پر صوبائی سیکریٹری داخلہ نے 100 وکلاء کو اسلحہ لائسنس کے اجراء کی منظوری دے دی ہے اور امید ہے کہ وہ مزید دو سو وکلاء کو بھی لائسنس جاری کریں گے تاکہ وکلاء اپنا دفاع خود کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ راجہ ریاض کے قتل کے خلاف وکلاء بدھ کو بھی عدالتوں کا بائیکاٹ کریں گے۔

سندھ بار کونسل کے رکن صلاح الدین گنڈاپور نے بتایا کہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا ایک وفد چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے ملاقات کرے گا اور اٹھارہ ستمبر کو بارہ مئی کے واقعات سے متعلق آئینی درخواستوں کی آئندہ سماعت کے موقع پر عدالت اور وکلاء کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تجاویز پیش کرے گا۔

وکلاء نے نواز شریف کو جلا وطن کرنے کے حکومتی اقدام کی بھی بھرپور مذمت کی اور انہوں نے اسے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی قرار دیا۔

اسلام آباد
اسلام آباد سے شہزاد ملک نے بتایا ہے کہ منگل کو سپریم کورٹ کے وکلاء نے بھی سندھ ہائی کورٹ میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کے مبینہ گھیراؤ اور کراچی میں ایک وکیل کے قتل کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔

 چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کا دس رکنی بینچ اپنی معمول کی عدالتی کارروائی کررہا تھا کہ سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء حامد علی خان اور علی احمد کُرد عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے اُن واقعات کے بارے میں بتایا جن کی وجہ سے وکلاء برادری نے ہڑتال کی ہے اور وہ عدالت میں پیش نہیں ہوں گے جس پر عدالت نے مقدمات کی سماعت ملتوی کردی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کا دس رکنی بینچ اپنی معمول کی عدالتی کارروائی کررہا تھا کہ سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء حامد علی خان اور علی احمد کُرد عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے اُن واقعات کے بارے میں بتایا جن کی وجہ سے وکلاء برادری نے ہڑتال کی ہے اور وہ عدالت میں پیش نہیں ہوں گے جس پر عدالت نے مقدمات کی سماعت ملتوی کردی۔

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ اور اسلام آباد اور راولپنڈی کی مقامی عدالتوں میں بھی آج ہڑتال رہی اور وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جس کی وجہ سے مقدمات کی پیروی کے سلسلے میں آئے ہوئے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

پشاور:
پشاور سے رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا ہے کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح صوبہ سرحد میں بھی وکلاء تنظیموں کی اپیل پر کراچی میں گزشتہ روز ایم کیو ایم کے کارکنوں کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے مبینہ گھیراؤ اور سابق وزیراعظم نوازشریف کی جلاوطنی کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا۔

پشاور میں وکلاء تنظیموں، پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ، ڈسٹرکٹ بار اسوسی ایشن اور پشاور بارکونسل کی اپیل پر تمام عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا۔

اس سلسلے میں پشاور ہائی کورٹ سے سورے پل تک ایک مظاہرے کا بھی اہتمام کیا گیا جس کی قیادت بار کے صدر عبد الطیف آفریدی ایڈوکیٹ نے کی۔ مظاہرین نے اس موقع پر ’ گو مشرف گو’ اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف نعرہ بازی کی۔

اس سے قبل پشاور ہائی کورٹ کے بار روم میں تمام وکلاء تنظیموں کا ایک جنرل باڈی اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں دیگر وکلاء کے علاوہ سینئر قانون دانوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

 پشاور ہائی کورٹ بار اسوسی ایشن کے صدر عبد الطیف افریدی ایڈوکیٹ نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف انہیں اس بات پر مجبور نہ کریں کہ وہ کراچی کے پشتونوں کو سندھ ہائی کورٹ کے حفاظت کے لیے بھیجیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کراچی میں گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ کا مبینہ گھیراؤ، ایک وکیل کے نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں قتل اور نوازشریف کی دوبارہ جلاوطنی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ وکیل رہنماؤں نے اس بات پر سخت افسوس کا اظہار کیا کہ ’پیر کو سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں ایم کیو ایم کے کارکنوں نے عدالت کے دروازے پر کئی گھنٹے تک قبضہ کیے رکھا اور عدالتی کارروائی میں مداخلت کی کوشش کی گئی۔‘

پشاور ہائی کورٹ بار اسوسی ایشن کے صدر عبد الطیف آفریدی ایڈوکیٹ نے یہ بھی کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف انہیں اس بات پر مجبور نہ کریں کہ وہ کراچی کے پشتونوں کو سندھ ہائی کورٹ کے حفاظت کے لیے بھیجیں۔

کوئٹہ
کوئٹہ سے عزیزاللہ خان نے بتایا ہے کہ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ منگل کے روز صوبہ بھر میں وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے اور ان کا یہ احتجاج سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود نواز شریف کو دوبارہ جلا وطن کرنے کے خلاف ہے۔

انھوں نے کراچی میں سندھ ہائی کورٹ کے احاطے میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کی مداخلت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد