بارہ مئی: ایم کیو ایم کے حلف نامے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ میں بارہ مئی واقعات کے متعلق رجسٹرار کے ریفرنس اور مختلف آئینی درخواستوں میں فریق بننے کے لیے بدھ کو ایم کیو ایم کے 160 سے زائد حامیوں نے حلف نامے داخل کیے ہیں،جن کا کہنا ہے کہ وہ بارہ مئی کو ہونے والے واقعات کے عینی شاہدین ہیں۔ ان حلف ناموں میں بارہ مئی کے روز تشدد کا الزام حزب اختلاف کی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، متحدہ مجلس عمل اور پی پی آئی کے کارکنوں پر عائد کیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے نواب مرزا ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ حلف نامے داخل کرنے والے عام شہری ہیں اور بارہ مئی کو ہونے والے پرتشدد واقعات کے عینی شاہدین بھی ہیں، اس لیے انہوں نے عدالت میں حلف نامے داخل کرائے ہیں تاکہ وہ تشدد کے ان واقعات کے ذمہ دار افراد کا تعین کرنے میں عدالت کی مدد کرسکیں۔ ان کے ساتھی وکیل مقیم عالم ایڈووکیٹ نے بتایا کہ حلف نامے جمع کرائے جانے کا سلسلہ جاری ہے مزید لوگ بھی حلف نامے جمع کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے بہت پہلے یہ کہا تھا کہ عدالت چونکہ اس واقعے کی انکوائری کر رہی ہے تو جو بھی شہری عدالت کی مدد کرنا چاہیں وہ حلف نامے داخل کراسکتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی مختلف لوگوں نے اس حوالے سے حلف نامے جمع کرائے تھے اور اب بھی لوگوں نے جو کچھ دیکھا ہے وہ حلف نامے جمع کرارہے ہیں۔ علاوہ ازیں عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید، سیکریٹری جنرل امین خٹک اور ضلعی صدر امان خٹک نے بھی مشترکہ طور پر عدالت میں ایک حلف نامہ داخل کیا ہے، جس میں بارہ مئی کے روز تشدد کے واقعات کا الزام ایم کیو ایم پر عائد کیا گیا ہے۔
حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ ’ بارہ مئی کو پورا شہر ایم کیو ایم کے کارکنوں کے کنٹرول میں تھا جو جدید اسلحہ سے لیس ہوکر چیف جسٹس آف پاکستان کے استقبال کے لئے ائر پورٹ جانے والے لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بناتے رہے‘۔ اے این پی کے رہنماؤں نے اپنے حلف نامے میں مزید کہا ہے کہ ’ اس دن شہر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار نظر نہیں آئے اور اگر وہ نظر آئے بھی تو خاموش تماشائی بنے رہے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے‘۔ دوسری جانب ہائی کورٹ کے اہلکار غنی میمن کے مطابق اس کیس کی آئندہ سماعتوں پر عدالت میں عام لوگوں کے داخلے کو اجازت ناموں (انٹری پاس) سے مشروط کردیا گیا ہے جو کہ عدالت کا عملہ جاری کرے گا، تاہم وکلاء بار ایسوسی ایشن کا کارڈ دکھا کر عدالت میں داخل ہوسکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس فیصلے کا مقصد عدالت میں لوگوں کے غیرضروری اجتماع کو روکنا ہے تاکہ عدالت کے کام میں حرج نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ کیس کی آئندہ سماعت کے موقع پر حکومت سندھ کو عدالت میں سکیورٹی کے ضروری انتظامات کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ بارہ مئی کے متعلق ریفرنس اور آئینی درخواستوں کی گزشتہ سماعت پر ہائی کورٹ کے اندر اور باہر ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی سمیت سینکڑوں افراد جمع ہوگئے تھے اور انہوں نے عدالت کے احاطے میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے حق میں نعرے بازی بھی کی تھی، جس کے بعد عدالت نے سماعت کرنے سے معذوری ظاہر کردی تھی اور اپنے حکم نامے میں لکھا تھا کہ وہ دباؤ کے حالات میں سماعت نہیں کرسکتی۔ واقعے کے بعد ایم کیو ایم نے ایک اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ عدالت میں جمع ہونے والے عام شہری تھے جو بارہ مئی کے مقدمے میں فریق بننے کے لیے تحریری حلف نامہ داخل کرنے کے لیے سندھ ہائی کورٹ پہنچے تھے۔ دریں اثناء بدھ کو عدالت نے ریفرنس اور آئینی درخواستوں کی سماعت کی تاریخ 17 ستمبر سے بڑھا کر 24 ستمبر مقرر کردی ہے۔ واضح رہے کہ جسٹس سرمد جلال عثمانی کی سربراہی میں قائم سات رکنی بینچ رجسٹرار کے ریفرنس اور آئینی درخواستوں کی سماعت کررہی ہے۔ | اسی بارے میں بارہ مئی: ’سندھ ہائی کورٹ کا گھیراؤ‘10 September, 2007 | پاکستان 12مئی، عدالتی ہدایت پرمقدمہ09 September, 2007 | پاکستان ہائیکورٹ بنچ پر حکومتی اعتراض07 September, 2007 | پاکستان ’بارہ مئی، حلف نامے داخل کرائیں‘06 September, 2007 | پاکستان رپورٹ من گھڑت ہے: ایم کیو ایم28 August, 2007 | پاکستان بارہ مئی:’سندھ حکومت اور ایم کیوایم ذمہ دار‘27 August, 2007 | پاکستان 12 مئی: حکومت کی جواب طلبی20 August, 2007 | پاکستان 12 مئی فسادات، حکومتوں کو نوٹس08 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||