BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 August, 2007, 07:27 GMT 12:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
12 مئی: حکومت کی جواب طلبی

جن نجی چینلز نےویڈیوز پیش کیں ان میں سندھ ٹی وی، کے ٹی این اور جیو ٹی وی شام ہیں
سندھ ہائی کورٹ میں پیر کو بارہ مئی کے واقعات کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کے موقع پر نجی ٹی وی چینلزنے تشدد کے مناظر کی ویڈیو پیش کردی ہیں جبکہ عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو ایک ہفتے کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔

جن نجی چینلز نے تشدد کے مناظر کی ویڈیوز پیش کیں ان میں سندھ ٹی وی، کے ٹی این اور جیو ٹی وی شام ہیں۔

پیر کو جب سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سرمد جلال عثمانی کی سربراہی میں قائم سات رکنی بینچ نے درخواستوں کی سماعت شروع کی تو سندھ ٹی وی، کے ٹی این اور جیو ٹی وی کی جانب سے 12 مئی کو چیف جسٹس کی آمد کے موقع پر کراچی میں ہونے والے خون خرابے کے مناظر کی ویڈیو سی ڈیز پیش کی گئیں جبکہ آج ٹی وی اور اے آر وائے ٹی وی چینلز کی جانب سے ویڈیو پیش نہیں کی گئی جس پر عدالت نے دونوں ٹی وی چینلز کو دوبارہ نوٹس جاری کیے ہیں۔

عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت کے سلسلے میں دو عدالتی معاون مقرر کر رکھے ہیں جنہوں نے حکام سے جواب طلبی کے لئے ایک تفصیلی سوالنامہ تیار کیا تھا۔ عدالت نے گزشتہ سماعت پر وفاقی اور صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرکے ان سوالات کا تفصیلی جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم حکومت سندھ کے وکیل راجہ قریشی نے جواب داخل کرنے کے لئے تین ہفتے کی مہلت مانگی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔

آج ٹی وی اور اے آر وائے ٹی وی چینلز کی جانب سے ویڈیو پیش نہیں کی گئی

کے پی ٹی یا کراچی پورٹ ٹرسٹ کے وکیل نے کہا کہ 12 مئی کو جن کنٹینرز سے سڑکیں بند کی گئی وہ کے پی ٹی کے نہیں تھے بلکہ پرائیویٹ لوگوں کے تھے۔ جس پر جسٹس سرمد جلال عثمانی ان سے کہا کہ یہ کنٹینرز رکھے کہاں جاتے ہیں؟ اس پر کے پی ٹی کے وکیل نے کہا کہ کنٹینرز کے پی ٹی یارڈ میں ہی رکھے جاتے ہیں۔ عدالت نے اپنے حکم میں چئرمین کے پی ٹی کو حکم دیا کہ وہ کے پی ٹی یارڈ کا 10 مئی کی نصف شب سے 12 مئی کی رات تک کا ریکارڈ اور ان کنٹینرز کی ڈیمانڈ کے حوالے سے کسی بھی اتھارٹی سے ہونے والی خط و کتابت یا زبانی بات چیت کی تفصیل عدالت میں پیش کریں۔

سندھ بار کونسل کے اراکین نے بی بی سی اردو سروس پر نشر ہونے والے وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کے اس انٹرویو کو تحریری شکل میں پیش کیا جس پر انہوں نے وزیر اعلی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست داخل کر رکھی ہے۔ وزیر اعلی سندھ کے وکیل وسیم سجاد عدالت میں پیش نہیں ہوئے عدالت کو بتایا گیا کہ وہ سینٹ کے اجلاس میں شریک ہیں۔ اس پر جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ آئندہ سماعت پر کوئی معذرت قبول نہیں کی جائے گی۔

انسانی حقوق کمیشن بھی فریق
 انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کی تنظیم اس مقدمے میں فریق بننا چاہتی ہے اور 12 مئی کو ہونے والے تشدد کے واقعات پر اپنی تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کرنا چاہتی ہے جسے عدالت نے منظور کرلیا

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کی تنظیم اس مقدمے میں فریق بننا چاہتی ہے اور 12 مئی کو ہونے والے تشدد کے واقعات پر اپنی تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کرنا چاہتی ہے جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، وزیر اعلی سندھ، شپنگ اور پورٹس کے وفاقی وزیر بابر غوری، وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے داخلہ امور وسیم اختر، چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ اور داخلہ کے وفاقی اور صوبائی سیکریٹریوں کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا اور سماعت 27 اگست تک ملتوی کردی۔

کراچی میں تشدد
امن خراب نہیں ہونے دیں گے : اسفندیار ولی
دو ہاتھیوں کی لڑائی
چیف جسٹس کی آمد پر عسکری طاقت کا مظاہرہ
کراچیکراچی میں قتل
شہر میں تشدد: خصوصی ضمیمہ
کراچیکراچی تشدد
کون معصوم ہے اور کون قصور وار
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد