BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 August, 2007, 11:21 GMT 16:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
12 مئی فسادات، حکومتوں کو نوٹس

سندھ ہائی کورٹ
یہ نوٹس رجسٹرار کے ریفرنس کی رِٹ میں تبدیلی کے بعد جاری کیے گئے ہیں
سندھ ہائی کورٹ نے 12 مئی کے واقعات کے حوالے سے عدالت کے رجسٹرار کی جانب سے داخل کردہ ریفرنس اور دیگر مختلف درخواستوں کی سماعت کے بعد اٹارنی جنرل آف پاکستان اور وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم سمیت وفاقی و صوبائی حکومت کے دیگر حکام کو نوٹس جاری کیے ہیں اور انہیں حکم دیا ہے کہ وہ عدالت کے معاون کے تیار کردہ سوالنامہ کا تفصیلی جواب دیں۔

عدالت نے نجی ٹی وی چینلز آج، جیو، اے آر وائی ون ورلڈ، سندھ ٹی وی اور کے ٹی این کو نوٹس جاری کرکے ہدایت کی ہے کہ وہ 12 مئی کے واقعات کی ویڈیو ریکارڈنگ عدالت کو فراہم کریں۔

بدھ کو جسٹس سرمد جلال عثمانی کی سربراہی میں قائم سات رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت 20 اگست تک ملتوی کردی اور اگلی سماعت سے درخواستوں کی سماعت روزانہ کرنے کا اعلان کیا۔

سماعت کے دوران سیکرٹری داخلہ سندھ غلام محمد محترم، 12 مئی کے وقت سندھ کے آئی جی پولیس نیاز احمد صدیقی، چیف سیکرٹری شکیل درانی، کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی اور متعلقہ پولیس افسر صدر طاہر نوید پیش ہوئے جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے وسیم سجاد پیش ہوئے۔ ان حکام کو مختلف درخواستوں میں جوابدہ بنایا گیا ہے۔

عدالت کے سوالات
 1۔ کراچی میں جو کچھ ہوا وہ کیوں ہوا؟ 2۔ اس کے ذمہ دار کون ہیں؟ 3۔ حکومت نے ان کے خلاف کیا کرروائی کی ہے؟

جسٹس سرمد جلال عثمانی نے واضح کیا کہ عدالت نے 12 مئی کے واقعات کا از خود نوٹس نہیں لیا ہے بلکہ عدالت کے رجسٹرار نے اس روز عدالت آنے والے ججوں اور بار کے ممبران کو پیش آنے والے واقعات پر ریفرنس داخل کیا تھا جسے رِٹ میں تبدیل کردیا گیا۔

انہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ بات واضح کی کہ عدالت سب سے پہلے یہ جاننا چاہتی ہے کہ 12 مئی کو کراچی میں جو کچھ ہوا وہ کیوں ہوا؟ اسکے ذمہ دار کون ہیں اور حکومت نے ان کے خلاف کیا کارروائی کی ہے؟

قائم مقام ایڈووکیٹ جنرل مسعود اے نورانی نے عدالت کو بتایا کہ تشدد کے واقعات کی 80 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ اس پر جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ان سے کہا کہ عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ ان ایف آئی آرز پر کیا کارروائی ہوئی ہے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی نے ایک موقع پر کہا کہ ’اس روز کراچی میں 50 افراد کو قتل کیا گیا اور اسلام آباد میں صدر نے ایک فکنشن میں کہا کہ یہ طاقت کا مظاہرہ تھا۔ صدر نے یہ بات یقیناً سرکاری ایجنسیوں کی ایسی اطلاع پر کہی ہوگی کیونکہ یہ بات ناقابل یقین ہے کہ صدر لوگوں کے خون خرابے کو طاقت کا مظاہرہ کہیں‘۔

فائل فوٹو
بارہ مئی کے فسادات چیف جسٹس کے کراچی بار کونسل سے خطاب کو روکنے کی کوشش کا نتیجہ تھے

انہوں نے کہا کہ یہ پتہ چلانا بھی ضروری ہے کہ صدر کو یہ اطلاع کس نے دی۔
اس معاملے میں عدالت کی معاونت کے لیے مقرر کیے گئے قانون دان قاضی فیض عیسیٰ ایڈووکیٹ نے 12 مئی کے واقعات کے حوالے سے وفاقی و صوبائی حکومت کے لیے تیار کردہ 35 نکاتی سوالنامے کی تفصیل بیان کی اور کہا کہ 12 مئی کو زندگی کے تحفظ کے حق سمیت شہریوں کے کئی بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد سے ہلاک ہونے والوں کے ورثاء اور عوام اب تک انصاف کے منتظر ہیں۔

12 مئی کے واقعات پر حکومت اور حکمران جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف آئینی درخواست داخل کرنے والے شہری اقبال کاظمی کو بھی جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا۔

اقبال کاظمی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ ان کی طرح ان کی اہلیہ کو بھی اغواء کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ عدالت عالیہ کے حکم کے باوجود پولیس اغواء کنندگان کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں ڈر ہے کہ انہیں جیل میں قتل کردیا جائے گا کیونکہ جیل میں انہیں مسلسل ذہنی اذیتیں دی جارہی ہیں۔

اقبال کاظمی اور ان کے اہلِ خانہ
اقبال کاظمی فراڈ کے الزام میں زیرِ حراست ہیں

عدالت نے کراچی جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا کہ وہ اقبال کاظمی کو جیل میں سیکیورٹی مہیا کریں۔

دریں اثناء سندھ بار کونسل کے اراکین کی جانب سے وزیر اعلیٰ سندھ کے خلاف داخل کردہ توہین عدالت کی درخواست پر ان کے وکیل وسیم سجاد نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل نے میڈیا پر ججوں کے خلاف کوئی توہین آمیز ریمارکس نہیں دیے۔

اس پر سندھ بار کونسل کے رکن صلاح الدین گنڈاپور نے عدالت کو بتایا کہ ان کے پاس وزیر اعلی سندھ ارباب غلام رحیم کی اس بات چیت کی ریکارڈنگ موجود ہے جو بی بی سی اردو سروس پر نشر ہوئی تھی۔ عدالت نے ان سے کہا کہ وہ اس بات چیت کو تحریری شکل میں عدالت میں پیش کریں۔

عدالت نے صوبے کے سابق چیف سیکرٹری شکیل درانی کو ان کے وکیل کی درخواست پر آئندہ سماعتوں پر عدالت میں پیش ہونے سے متثنیٰ قرار دے دیا۔

بعد ازاں سات رکنی بینچ نے اٹارنی جنرل آف پاکستان، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، وزیر اعلیٰ سندھ، چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ، شپنگ اور پورٹس کے وفاقی وزیر بابر غوری، وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے محکمۂ داخلہ وسیم اختر، داخلہ ہی کے وفاقی اور صوبائی سیکرٹریوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالتی معاون کے تیار کردہ سوالنامے پر تفصیلی جواب داخل کرنے کا حکم دیا اور سماعت 20 اگست تک ملتوی کردی۔

کراچی میں تشدد
امن خراب نہیں ہونے دیں گے : اسفندیار ولی
دو ہاتھیوں کی لڑائی
چیف جسٹس کی آمد پر عسکری طاقت کا مظاہرہ
کراچیکراچی میں قتل
شہر میں تشدد: خصوصی ضمیمہ
کراچیکراچی تشدد
کون معصوم ہے اور کون قصور وار
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد