BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 September, 2007, 00:18 GMT 05:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
12مئی، عدالتی ہدایت پرمقدمہ

بارہ مئی کے تشدد میں درجنوں افراد مارے گئے تھے
سندھ ہائی کورٹ کی ہدایت پر ملیر بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران سنیچر کو ایئرپورٹ تھانے پہنچے جہاں انہوں نے بارہ مئی سے متعلق پرتشدد واقعات کے سلسلے میں مقدمہ درج کرانے کے لئے پولیس کو ایک بیان ریکارڈ کرایا جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

بارہ مئی کے واقعات سے متعلق دائر کردہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے ریفرنس اور مختلف آئینی اپیلوں کی سماعت کے دوران جمعہ کو ملیر بار ایسو سی ایشن کے وکلاء نے عدالت سے شکایت کی تھی کہ پولیس بارہ مئی کے پرتشدد واقعات کے بارے میں ان کا مقدمہ درج نہیں کر رہی ہے جس پر عدالت نے ان کو ہدایت کی تھی کہ وہ تھانے جا کر مقدمہ درج کرائیں اور اگر پولیس انکار کرے تو وہ عدالت کو آگاہ کریں۔

عدالت کی ہدایت کی روشنی میں ملیر بار کے صدرظہور حسین مہر، نائب صدر اشرف سموں، سیکریٹری جنرل عبدالنعیم اور دیگر افراد سنیچر کو ایئرپورٹ تھانے پہنچے جہاں اشرف سموں نے اپنا بیان پولیس کو ریکارڈ کرایا۔

اس میں انہوں نے تحریر کرایا کہ ملیر بار کے ارکان بارہ مئی کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے استقبال کے لئے ایئرپورٹ کی جانب جاتے ہوئے جب ملیر کالا بورڈ، ملیر ہالٹ اور اس کے اطراف پہنچے تو وہاں موجود کچھ گاڑیوں پر متحدہ قومی مومنٹ کے جھنڈے لگے تھے جبکہ چند افراد کے ہاتھوں میں اسلحہ تھا جن کی فائرنگ سے کئی افراد زخمی ہوئے اور ان میں سے کچھ کی موت واقع ہوئی۔

پولیس نے بیان ریکارڈ کرنے کے بعد اس پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس بابت جب کراچی پولیس کے ڈی آئی جی ایسٹ زون میر زبیر محمود سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پولیس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ اس بیان کی روشنی میں مقدمہ درج کرے۔

انہوں نے بتایا کہ مدعی نے براہِ راست کسی انفرادی شخصیت کو نامزد نہیں کیا ہے بلکہ مجموعی طور پر بظاہر ایک سیاسی جماعت ایم کیو ایم کو نامزد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بیان میں مدعی نے الزام لگایا ہے کہ کچھ لوگ جو گاڑیوں میں بیٹھے تھے جن میں متحدہ قومی مومنٹ کے جھنڈے لگے تھے اور ان گاڑیوں سے فائرنگ کی گئی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مدعی نے براہِ راست الزام لگایا ہے کہ گاڑیوں میں بیٹھے افراد ایم کیو ایم کے ارکان تھے تو انہوں نے کہا کہ اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور یہ بات تفتیش کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

واضح رہے کہ بارہ مئی کے حوالے سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی کراچی آمد پر ناقص حفاظتی انتظامات اور نتیجتاّ ہنگامہ آرائی میں کئی افراد کی ہلاکت اور ایئرپورٹ اور سندھ ہائی کورٹ جانے والے راستوں کی بندش پر ہائی کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے تیار کردہ ریفرنس اور اسی قسم کی دائرکردہ کئی آئینی درخواستوں پر اب روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو رہی ہے۔

ہفتہ وار تعطیلات کے بعد ہائی کورٹ کی سات رکنی بنچ پیر سے اس مقدمہ کی سماعت دوبارہ شروع کرے گی۔

کراچیکراچی میں قتل
شہر میں تشدد: خصوصی ضمیمہ
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
کراچیلمحہ بہ لمحہ
مختلف علاقے میں موجود ہمارے رپورٹرز سے
متحدہ کی وڈیو
وڈیو کراچی میں 12 مئی کے تشدد پر مبنی ہے
بابر چنگیزیانصاف کا انتظار
کراچی: مرنے والوں کے ورثاء کو انصاف کا انتظار
لیاری کے گینگ
لیاری جو مسلح گروہوں کے نرغےمیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد