کراچی: تشدد کےمتاثرین انصاف کےمنتظر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکیس سالہ محمد جاوید ان ڈیڑھ درجن افراد میں شامل تھے جو بارہ مئی کو ملیر ہالٹ اور اسکے آس پاس ہونےوالی اندھا دھند فائرنگ میں ہلاک ہوئے۔ ان کےوالد مزدور اور وہ خود چھ ہزار روپے ماہوار پر ایک نجی کمپنی میں ملازم تھے۔ ان کی موت کے صدمے سے اہل خانہ ابھی نکل نہیں پائے ہیں۔ چھوٹے بھائی بشیر احمد انہیں یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’ جب جب بھی یاد آئےگی، ان کی کمی تو محسوس ہوگی کیونکہ وہ ہمارے بڑے بھائی اور سہارا تھے۔ ان کے بغیر اب جیسے بھی وقت گزرے گا گزاریں گے اور کیا کرسکتے ہیں۔‘ بشیر 12 مئی کے واقعات کی تحقیقات اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر سخت ناراض ہیں۔ ’حکومت ہمیں چار لاکھ روپے دے رہی ہے۔ ہم اسکے ڈبل پیسے دیتے ہیں، ایک گولی ہم بھی مارتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیسا محسوس ہوتا ہے ان لوگوں کو۔ انہیں بھی یہ پتہ چلے کہ درد کیا ہوتا ہے۔‘ قاضی سلیم وفاقی حکومت کے ایک سائنسی تحقیقی ادارے میں سائنسدان ہیں، ان کے بھائی محمد اسحاق ایک ٹیکسٹائل مل میں اسسٹنٹ انجینئر تھے اور 5 جون کو ان کی شادی ہونا تھی۔ قاضی سلیم کے بقول ان کے بھائی کسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں تھے، 12 مئی کو ڈیوٹی پر جانے کے لیے گھر سے گئے تھے لیکن فائرنگ کی زد میں آگئے۔ انہوں نے سرکاری معاوضے کو ایک رسمی کارروائی کہا۔’ معاوضہ دینے سے کچھ نہیں ہوتا اس وقت ہمارا سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور انہیں سزا دی جائے۔‘ عمر صدیق دو بچوں کے باپ تھے اور بقائی میڈیکل یونیورسٹی کے ڈرائیور کی نوکری کرتے تھے، والد کی ضعیف العمری کے باعث چار چھوٹے بھائیوں اور ایک بہن کی کفالت بھی انہیں کے ذمہ تھی۔
اب ان کا خاندان کن مشکلات کا شکار ہے ان کے پھوپھی زاد بھائی محمد جاوید بتاتے ہیں: ’ان کے والدین اس واقعے کے بعد اکثر بیمار رہتے ہیں اور ان کی حالت کافی پریشان کن ہے۔‘ ’حکومت سندھ کی جانب سے جو تین لاکھ روپے کا چیک انہیں ملا ہے وہ اسکی رقم اب تک حاصل نہیں کرپائے ہیں اسکی وجہ یہ کہ ان کی اہلیہ کا شناختی کارڈ نہیں ہے اور شناختی کارڈ بننے میں حکومت کا بھی کوئی تعاون نہیں ہے نادرا والوں نے بھی ہمارے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا وہ بھی روز نئی نئی باتیں کہتے ہیں۔‘ متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن بابر چنگیزی دو بچوں کے باپ تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی عامر کہتے ہیں،’ پورا گھر سخت پریشان ہے اور صدمے سے دوچار ہے۔ خاص طور پر والد زیادہ پریشان ہیں۔اس صدمے سے نکل نہیں پائے ہیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ بچے ابھی چھوٹے ہیں اور کھیل کود میں مست رہتے ہیں اور جب یاد آتی ہے تو پاپا کا پوچھنا شروع کردیتے ہیں۔ |
اسی بارے میں کراچی کے عوام صرف کچلے جانے کے لیے؟14 May, 2007 | پاکستان جلسے جلوسوں پر پابندی13 May, 2007 | پاکستان سہراب گوٹھ سے ہنگاموں کا آغاز13 May, 2007 | پاکستان جولائی میں دوبارہ کراچی آئیں گے07 June, 2007 | پاکستان بارہ مئی کے پٹیشنر کو جیل13 June, 2007 | پاکستان کراچی: ایم ایم اے کی ہڑتال ناکام15 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||