BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 June, 2007, 18:59 GMT 23:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: تشدد کےمتاثرین انصاف کےمنتظر

عمر صدیق
عمرصدیق پر دو بچوں کے ساتھ پانچ چھوٹے بھائی بہنوں کی بھی ذمہ داری تھی
اکیس سالہ محمد جاوید ان ڈیڑھ درجن افراد میں شامل تھے جو بارہ مئی کو ملیر ہالٹ اور اسکے آس پاس ہونےوالی اندھا دھند فائرنگ میں ہلاک ہوئے۔
ان کےوالد مزدور اور وہ خود چھ ہزار روپے ماہوار پر ایک نجی کمپنی میں ملازم تھے۔

ان کی موت کے صدمے سے اہل خانہ ابھی نکل نہیں پائے ہیں۔ چھوٹے بھائی بشیر احمد انہیں یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’ جب جب بھی یاد آئےگی، ان کی کمی تو محسوس ہوگی کیونکہ وہ ہمارے بڑے بھائی اور سہارا تھے۔ ان کے بغیر اب جیسے بھی وقت گزرے گا گزاریں گے اور کیا کرسکتے ہیں۔‘

بشیر 12 مئی کے واقعات کی تحقیقات اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر سخت ناراض ہیں۔

 یہ ایک ایسا غم ہے کہ جسے ہم کبھی بھول نہیں سکتے، پورے گھر میں اس واقعے کے بعد سے ایک خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
قاضی سلیم

’حکومت ہمیں چار لاکھ روپے دے رہی ہے۔ ہم اسکے ڈبل پیسے دیتے ہیں، ایک گولی ہم بھی مارتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیسا محسوس ہوتا ہے ان لوگوں کو۔ انہیں بھی یہ پتہ چلے کہ درد کیا ہوتا ہے۔‘

قاضی سلیم وفاقی حکومت کے ایک سائنسی تحقیقی ادارے میں سائنسدان ہیں، ان کے بھائی محمد اسحاق ایک ٹیکسٹائل مل میں اسسٹنٹ انجینئر تھے اور 5 جون کو ان کی شادی ہونا تھی۔

قاضی سلیم کے بقول ان کے بھائی کسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں تھے، 12 مئی کو ڈیوٹی پر جانے کے لیے گھر سے گئے تھے لیکن فائرنگ کی زد میں آگئے۔

 پورا گھر سخت پریشان ہے اور صدمے سے دوچار ہے۔
عامر جنگیزی
’یہ ایک ایسا غم ہے کہ جسے ہم کبھی بھول نہیں سکتے، پورے گھر میں اس واقعے کے بعد سے ایک خاموشی چھائی ہوئی ہے۔‘

انہوں نے سرکاری معاوضے کو ایک رسمی کارروائی کہا۔’ معاوضہ دینے سے کچھ نہیں ہوتا اس وقت ہمارا سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور انہیں سزا دی جائے۔‘

عمر صدیق دو بچوں کے باپ تھے اور بقائی میڈیکل یونیورسٹی کے ڈرائیور کی نوکری کرتے تھے، والد کی ضعیف العمری کے باعث چار چھوٹے بھائیوں اور ایک بہن کی کفالت بھی انہیں کے ذمہ تھی۔

کیا انصاف ملے گا
بچوں کی زندگی باپ کے بغیر گزرےگی

اب ان کا خاندان کن مشکلات کا شکار ہے ان کے پھوپھی زاد بھائی محمد جاوید بتاتے ہیں: ’ان کے والدین اس واقعے کے بعد اکثر بیمار رہتے ہیں اور ان کی حالت کافی پریشان کن ہے۔‘

’حکومت سندھ کی جانب سے جو تین لاکھ روپے کا چیک انہیں ملا ہے وہ اسکی رقم اب تک حاصل نہیں کرپائے ہیں اسکی وجہ یہ کہ ان کی اہلیہ کا شناختی کارڈ نہیں ہے اور شناختی کارڈ بننے میں حکومت کا بھی کوئی تعاون نہیں ہے نادرا والوں نے بھی ہمارے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا وہ بھی روز نئی نئی باتیں کہتے ہیں۔‘

متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن بابر چنگیزی دو بچوں کے باپ تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی عامر کہتے ہیں،’ پورا گھر سخت پریشان ہے اور صدمے سے دوچار ہے۔ خاص طور پر والد زیادہ پریشان ہیں۔اس صدمے سے نکل نہیں پائے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ بچے ابھی چھوٹے ہیں اور کھیل کود میں مست رہتے ہیں اور جب یاد آتی ہے تو پاپا کا پوچھنا شروع کردیتے ہیں۔

کراچیلمحہ بہ لمحہ
مختلف علاقے میں موجود ہمارے رپورٹرز سے
دو ہاتھیوں کی لڑائی
چیف جسٹس کی آمد پر عسکری طاقت کا مظاہرہ
متحدہ کی وڈیو
وڈیو کراچی میں 12 مئی کے تشدد پر مبنی ہے
کراچی میں تشدد
امن خراب نہیں ہونے دیں گے : اسفندیار ولی
اسی بارے میں
جلسے جلوسوں پر پابندی
13 May, 2007 | پاکستان
بارہ مئی کے پٹیشنر کو جیل
13 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد