بارہ مئی کے پٹیشنر کو جیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کی ایک عدالت نے بارہ مئی کے پرتشدد واقعات کی انکوائری کے لیے عدلیہ سے رجوع کرنے والے شحص اقبال کاظمی کو دھوکہ دہی کے ایک معاملے میں جیل بھیج دیا ہے۔ پیمرا قوانین میں تازہ ترامیم کے خاتمے اور کراچی میں 12 مئی کے پرتشدد واقعات کی عدالتی تحقیقات کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے والے اقبال کاظمی گزشتہ ہفتے پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے تھے اور دو دن بعد زخمی حالت میں ملے تھے۔ ان پر واجبات کی ادائیگی کے لیے ایک چیک جاری کرنے کا الزام ہے جو کھاتے میں ناکافی فنڈز کی وجے سے باؤنس ہو گیا تھا۔ انہیں گزشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا۔ درخشاں پولیس نے اقبال کاظمی کو کینٹونمنٹ کے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے انہیں 16 جولائی تک جیل بھیج دیا ہے۔ اقبال کاظمی کے وکیل ناہید افضال کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل کو عام عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے تھا، اور پولیس انہیں کینٹونمنٹ کی عدالت میں پیش کرنے کی وجہ سے توہین عدالت کی مرتکب ہوئی ہے۔
الفلاح تھانے میں اقبال کاظمی پر دھوکہ بازی کا ایک اور مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اقبال کاظمی مفرور تھے اور اب تفتیشی پولیس نے انہیں گرفتار کیا ہے۔ اقبال کاظمی کی بیوی سعدیہ کاظمی کا کہنا تھا کہ اگر ان کے شوہر پر کوئی پرانا مقدمہ تھا، تو انہیں اس سے پہلے کیوں گرفتار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کاظمی کو پولیس کی آپریشن برانچ کے اہلکاروں نےگرفتار کیا اور اگر یہ گرفتاری کسی پرانے مقدمے میں تھی تو تفتیشی پولیس کوگرفتار کرنا چاہیے تھا۔ سعدیہ کاظمی کا کہنا ہے کہ وہ جب درخشاں تھانے میں اپنے شوہر سے ملاقات کے لیے گئیں تو انہیں صرف پانچ منٹ ملنے کی اجازت دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے انہیں ایف آئی آر کی نقل فراہم کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ پرانا مقدمے ہے اس لیے وہ فوری طور پر یہ نقل فراہم نہیں کر سکتے۔ سعیدہ کاظمی کا کہنا ہے کہ وہ بدھ کو ہائی کورٹ میں وکلاء سے ملاقات کریں گی۔ وہاں سے کوئی رلیف نہ ملی تو کراچی پریس کلب کے باہر بچوں سمیت بھوک ہڑتال کریں گی۔ گزشتہ ہفتے بازیابی کے بعد ان کا کہنا تھا کہ انہیں نامعلوم مقام پر مسلح افراد نے شدید اذیتیں دیں اور پانچ دن میں اہل خانہ سمیت کراچی چھوڑنے کی دھمکی دی تھی۔ اقبال کاظمی کی 12 مئی کے واقعات کی عدالتی تحقیقات کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے یکم جون کو وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم، متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین اور دیگر کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا تھا۔ |
اسی بارے میں بارہ مئی واقعے کے پٹیشنر لاپتہ06 June, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد: سماعت جاری رہے گی06 June, 2007 | پاکستان بارہ مئی واقعہ کے پٹیشنر کی گرفتاری12 June, 2007 | پاکستان لاپتہ پٹیشنر زخمی حالت میں واپس09 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||